info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





آن لائن فراڈ اور جھوٹے پیغامات میں رقم کی ضمانت کا شرعی حکم


سوال: من مسمیٰ حافظ محمد ساجد ایک ادارہ میں قرآن مجید کی جماعت کو پڑھاتا ہوں، ایک دن ایک نو وارد طالبعلم کی صورت میں آیا اور اپنا تعارف بتایا اور اپنے آپ کو ایک معروف ادارہ کے ایک مشہور قاری کا شاگرد بتایا اور ایسے دوسری معلومات بھی بتائیں جن سے مجھے یقین ہو گیا کہ یہ طالبعلم رہا ہے۔۔۔ پھر اس نے مجھے کہا کہ میں آپ کو اکاؤنٹ بنا کر دیتا ہوں، آپ آن لائن کلاسیں پڑھایا کریں، صرف آدھا گھنٹہ پڑھانا ہوگا۔ میں نے انکار کیا لیکن اس نے کافی اصرار کیا کہ آپ اکاؤنٹ بنوا لیں، مفت کا بنتا ہے، آپ کا کوئی خرچ نہیں ہورہا ، آپ اگے پڑھائیں یا نہ پڑھائیں آپ کی مرضی ہےتو بالآخر میں نے حامی بھر لی اور اپنا موبائل اس کو دیا کہ اکاؤنٹ بنا دے، اسی اثناء میں نماز کو وقت ہوگیا تو میں مصلی پر نماز پڑھانے کیلئے آگے چلا گیا، اس نے دو رکعت پڑھی اور پھر وہاں سے کھسک کر بھاگ گیا اور پھر میرے نمبر سے محفوظ نمبروں پر پیغامات بھیجے کہ: "میری گھر والی ایمرجنسی میں ہے، مجھے دس ہزار کی اشد ضرورت ہے، مجھے فوری بھیج دیں، پانچ دن میں آپ کو واپس کر دوں گا"۔۔۔ کسی کو لکھا کہ "میرا بیٹا ایمرجنسی میں ہے" کسی کو پانچ ہزار فوری بھیج کر پانچ دن میں واپس کرنے کا کہا۔ اگلے دن میں نے سم بند کروا کر دوبارہ نکالی تو لوگوں کی کالیں آنی شروع ہوگئیں کہ گھر والی کیسے ہے، بیٹا اب کیسے ہے۔ کسی نے کہا کہ پیسے مل گئے وغیرہ ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ چور نے پانچ دن میں پیسے واپس کرنے کا پیغام بھیجا تھا، کچھ ساتھیوں نے مجھ سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ ہمیں ہماری رقم دیں۔ آیا میرے ذمہ ان کو رقم دینا شرعاً لازم ہے یا نہیں؟


جواب:

یہ دور جدید میں واردات کی جدید صورت ہے، اور سائل (حافظ محمد ساجد) اس میں کسی طور پر ملوث نہیں ہے،اس لئے اس پر کسی قسم کی ضمان شرعاً لازم نہ ہوگی ۔ رقم بھیجنے والوں کی کوتاہی ہے کہ وہ پہلے بذریعہ کال تصدیق کرتے پھر رقم بھیجتے۔

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 307202610210

فتویٰ آن لائن


آن لائن فراڈ اور جھوٹے پیغامات میں رقم کی ضمانت کا شرعی حکم #فراڈ #آن_لائن_معاملات #ضمان_شرعی #اسلامی_فقہ #مالی_حفاظت