info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن کا انتقال ہوچکا ہے۔ مرحومہ کے ورثاء میں شوہر، ایک حقیقی بھائی، ایک حقیقی بہن اور ایک ماں شریک بہن ہیں۔ مرحومہ کی کوئی اولاد نہ تھی۔ نیز اس کے والدین زندگی میں ہی وفات پاگئے تھے۔ہر ایک شرعی حصہ بتا دیں۔جزاک اللہ خیرا۔


جواب:

مسئلہ6/18 مضروب3 (متوفیہ)

میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 شوہر۔ بھائی۔حقیقی  بہن ۔ماں شریک بہن

3۔ 2 ۔1

9 ۔4۔2 ۔3

 

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد از ادائے قرض و وصیتِ جائزہ مرحومہ کا کل ترکہ 18حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔

أما أولاد الأم فأحوال ثلاث: السدس للواحد ۔الخ

(السراجي، باب معرفة الفروض، ص10 ط:مكتبة العلم)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 307202610211

فتویٰ آن لائن


مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم #وراثت #اسلامی_فقہ #شوہر_بیوہ_ورثاء #ترکہ_تقسیم #فقہ_اسلامی