پرانا مقررہ حق مہر ادا کرنے کا شرعی حکم اور ادائیگی کی صورت
سوال: میری شادی تقریباً ۱۹۶۵ء میں ہوئی اور حق مہر تین سو روپے طے ہوا، جو کہ ابھی تک ادا نہیں کیا۔ اب میں بیوی کو ۳۰۰ روپے دیتا ہوں لیکن وہ لینے پر تیار نہیں ہے۔ آیا میرے لئے کیا حکم ہے؟ اور حق مہر کیسے ادا ہوگا؟
جواب:
واضح رہے کہ حق مہر جو مقرر کیا گیا ہو وہ شرعاً شوہر کے ذمہ قرض ہوتا (فتاوی دارالعلوم دیوبند، کتاب النکاح، رقم السوال: ۱۳۴۳ ط:دارالاشاعت) اور قرض کے بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ اگر کوئی رقم قرض لی تو جتنا بھی عرصہ گزر جائے ، اتنی ہی رقم واپس کرنی ہو گی۔۔۔ لہٰذا قضاءً تو حکم یہی ہے کہ شوہرطے شدہ حق مہر ادا کرے ، البتہ اگر اخلاقاً از خود اقل مہر(جو کہ آج کل تقریباً پانچ ہزار ہے) دے دے یا کچھ اور دے کر بیوی کو لینے پر راضی کرلے۔
اگر بیوی لینے پر رضامند نہ ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ شوہر کو حق مہر معاف کردے۔اگر اس پر بھی راضی نہ ہوتو کسی طرح حق مہر کی رقم اس کی ملکیت میں دے دے تو حق مہر ادا ہوجائے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 307202610226
فتویٰ آن لائن