info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





کیا تحریری طلاق میں خودکار طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں؟ فقہی وضاحت


سوال: ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق نامہ دستخط کرکے بھیجا، جس میں یوں درج ہے: "زوجہ ام کو طلاق رجعی دیتا ہوں، یہ کہ اندر میعاد ایک ماہ اگر زوجہ ام رجوع کرلے تو طلاق ہذا کالعدم تصور ہوگی۔ بصورتِ دیگر طلاق ہذا ایک ماہ بعد خود بخود طلاق بائن ،جبکہ مزید عرصہ ایک ماہ بعد طلاق ثلاثہ ہوجائے گی" آیا اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ جبکہ اس تحریر کے دو ماہ گزرنے سے پہلے پہلے رجوع کرلیا تھا۔ نوٹ: اس واقعہ سےقبل کوئی طلاق نہیں دی، نہ زبانی اور نہ ہی تحریری۔


جواب:

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں احمد یار کے خط کشیدہ الفاظ لکھوانے کی وجہ سے نصرت بی بی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی اور عدت کے گزرنے سے پہلے رجوع کرلینے کی وجہ سے نکاح بحال ہوگیا ہے۔

’’وإذا طلق الرجل امرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین فلہ أن یراجعہا فی عدتھا رضیت بذلک أو لم ترض‘‘(ہندیہ، جلد:۱،صفحہ:۴۷۰)

البتہ مستقبل میں احمد یار کو دو طلاقیں دینے کا اختیار ہوگا۔

أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد۔

(بدائع ،کتاب الطلاق، فصل فی بیان حکم الطلاق الرجعی،  جلد:۳،صفحہ:۱۸۰)

  فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 522202610317

فتویٰ آن لائن


جائز و ناجائز معاملات