لے پالک (منہ بولی بیٹی) کی وراثت کا شرعی حکم کیا ہے؟
سوال: ایک شخص کا انتقال ہوچکا ہے۔ ترکہ میں ایک مکان ہے۔ ورثاء میں ایک بیوہ ، لے پالک بیٹی دو چچا زاد بھائی ہیں۔ مرحوم کے والدین کا انتقال اس کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ مرحوم لاولد تھا۔ نیز اس کا کوئی بھائی نہیں تھا۔ ایک بہن تھی، جو اس کی زندگی میں ہی وفات پاگئی تھی۔ 1۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔ 2۔ لے پالک بچی کی ولدیت مرحوم کے نام ہے، شرعاًیہ کرنا کیسا ہے؟ یہ مکان میرے خاوند کا ہے میں نے ان سے لکھوالیا تھا ۔ کہ ان کا وراثتی حصہ ختم ہوگیا ہے۔ وہ راضی تھے۔ 1۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔ 2۔ لے پالک بچی کی ولدیت مرحوم کے نام ہے، شرعاًیہ کرنا کیسا ہے؟
جواب:
الجواب حامدًا و مصلیًا
مسئلہ:4/ 8 ۔۔۔مضروب : 2
متـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــۃ
بیوہ ۔ چچا زاد بھائی ۔ چچا زاد بھائی ۔لے پالک بیٹی ۔پہلے سے فوت شدہ بہن
2۔3۔3۔محروم ۔محروم
بر تقديرِ صحت واقعہ صورتِ مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد اکرام(متوفی) کا کل ترکہ 8حصے ہوکر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
مرحوم کی زندگی میں فوت ہوجانے کی وجہ سے مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گی۔
نیزلے پالک ہونے کی وجہ سے مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گی؛ کیونکہ وراثت کا حقدار نسب یا زوجیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔البتہ اگر اس کیلئے کوئی وصیت کی گئی ہو تو بتا کر مسئلہ پوچھ لیا جائے۔
لما في الفتاوى الهندية:
ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء
(کتاب الفرائض، 6 / 447 ط: دارالمعرفة)
باقی لے پالک بچی کو اپنا نام دینا شرعاً جائزنہیں ہے، بلکہ اس کو حقیقی والد ہی کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے، اسی طرح تمام دستاویزات میں ولدیت کےخانہ میں حقیقی والد ہی کا نام لکھنا ضروری ہے، پالنے والے کا نام لکھنا جائز نہیں ہے،
بلکہ نبی کریمﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو حقیقی والد کے بجائے غیر کی طرف منسوب کرے تو جنت کو اس پر حرام قرار دیا ہے۔
عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام»
(صحيح البخاري، كتاب الفرائض، باب من ادعى إلى غير أبيه، رقم الحديث: 6766، 8/ 156 ط: دار طوق النجاة)
نیز ارشادِ خداوندی ہے:
{ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ الله} [الأحزاب: 5]
ترجمہ:"پکارو تم ان(لے پالکوں) کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف (منسوب کرکے)، یہی زیادہ انصاف والا (معاملہ )ہےاللہ(تعالیٰ) کے ہاں"
لہٰذا لڑکی کو اس کے حقیقی والد کے بجائے پالنے والے کی طرف منسوب کرنا اور دستاویزات میں ولدیت کے خانہ میں پرورش کرنے والےکا نام لکھنا شرعاً حرام وگناہ ہے۔جس پر ملوث افراد کو توبہ کرنی چاہیے۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 531202610319
فتویٰ آن لائن