قربانی کی کھال کا مسجد کی تعمیر پر خرچ کرنے کا شرعی حکم
سوال: قربانی کے جانور کی کھال مسجد کی تعمیر یا ضروریات پر خرچ کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ ایک شخص کہتا ہے کہ جب اغنیاء کو ھبہ کی جاسکتی ہے تو متولی یا امام مسجدکو ھبہ کرکے پھر بیچ کر مسجد پر کیوں نہیں لگ سکتی ؟ اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا کوئی صورت ہے کہ قربانی کی کھالیں مسجد پر لگ سکیں؟
جواب:
اگر متولی یا امام کو اس شرط کے ساتھ کھال دی جائے کہ وہ اس کو بیچ کر مسجد پر ہی صرف کرے گا تو اس بارے میں مفتی عظیم فقیہ النفس مفتی عبدالرحیم لاجپوریؒ مفتی اعظم مفتی عزیزالرحمٰنؒ کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں:
"اگر کھال کو مسجد کے متولیان یا پیش اماموں کو مسجدیں بنانے کے لئے دے دی جائے کہ یہ لوگ اس کی قیمت کو تعمیر مساجدمیں صرف کریں وہ بھی جائز نہ ہوگا، کیونکہ یہاں بھی شرط تملیک جو رکن ہے پائی نہیں جاتی، کیونکہ تملیک کی معنی ہی یہ ہیں کہ کسی شخص کو مالک بنا دینا، تاکہ وہ بعد مالک ہوجانے کے جو چاہے کرے، اور بصورت مذکورہ اس قسم کا مالک بنایا نہیں جاتا ، بلکہ دینے والے اس لئے دیتے ہیں کہ یہ رقم تعمیر مساجد میں صرف کی جاوے اور یہ تملیک نہیں بلکہ سراسر توکیل ہے قربانی کرنے والے کو ایسا مجاز نہیں کہ کھال کی قیمت تعمیر مساجد میں صرف کرے ویسا ہی ان کو بھی مجاز نہیں کہ کسی دوسرے کو مساجد وغیرہ کی تعمیر میں اسے صرف کر نے کو وکیل بنا وے، کیونکہ جس تصرف کے لئے خود مؤکل کو مجاز نہیں ہے اس کے واسطے دوسرے کو وکیل بنانا بھی جائز نہیں ہے چنانچہ ہدایہ کی کتاب الوکالۃ میں ہے: من شرط الوکالۃ ان یکون الموکل ممن یملک التصرف ویلزمہ الاحکام لان الوکیل یملک التصرف من جھۃ المؤکل فلا بد من ان یکون المؤکل مالکاًلیملک من غیرہ۔
خلاصہ یہ ہے کہ قربانی کی کھال جب فروخت کر دی گئی پھر اس کی قیمت مساجد وغیرہ میں صرف کرنا شرعاً ممنوع ہے۔(فتاویٰ دارالعلوم قدیم ص ۱۸۸،ص۱۸۹ ج۷،۸، عزیز الفتاویٰ)( فتاوی رحیمیہ جلد 10صفحہ نمبر: 43 ط:دارالاشاعت)
باقی یہ اعتراض کرنا کہ غنی کو کھال دی جاسکتی ہے تو مسجد پر خرچ کیوں نہیں کی جاسکتی تو اس کو جواب یہ ہے کہ یہ قیاس مع الفارق ہے، یعنی یہ استدلال کرنا غلط ہے؛ کیونکہ غنی کو کھال کا مالک بلا عوض بنایا جاتا ہے، جبکہ مسجد میں تملیک والا معنیٰ نہیں ہے، بلکہ مسجد پر خرچ تب کی جاسکے گی جب اس کو بیچ کر رقم حاصل کرلی جائے اور فقہاء کرامؒ نے لکھا ہے کہ جب قربانی کی کھال یا گوشت کو بیچا جائے تو حاصل شدہ رقم واجب التصدق ہے،اور صدقہ کرنے میں تملیک کا پایا جانا ضروری ہے، جبکہ مسجد میں یہ صلاحیت نہیں۔
اور اگر امام یا متولی کو دے دی جائے پھر وہ اپنی مرضی سے ان کو فروخت کرکے مسجد پر صرف کریں تو اس کی شرعاً اجازت ہے بشرطیکہ اس کا عرف نہ ہوکہ اس کو کھال دی ہی اسی لئے جارہی کہ وہ اس کو بیچ کر مسجد پر صرف کرے گا۔لأن المعروف كالمشروط
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 307202610234
فتویٰ آن لائن