بھائیوں کے وراثتی حصہ کو بہنوں کی اجازت کے بغیر فروخت کرنے کا شرعی حکم
سوال: محمد خالد فوت ہوگیا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ، دو بیٹیاں ، ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ والدین پہلے وفات پاگئے ہیں۔ مرحوم کے ترکہ میں ایک چھ مرلے کا پلاٹ ہے، جو اس کی بیوی نے کسی کو بتائے بغیر 30،00،000 روپے ميں فروخت کر دیا ہے۔ آیا اس میں بھائی بہنوں کا حصہ ہوگا یا نہیں؟ نیز بیوہ بہن بھائیوں کو حصہ دینے سے انکاری ہے۔
جواب:
اس میں مرحومہ کے بہن بھائیوں کا حصہ بھی ہے بيوہ کا بہن بھائیوں کو شرعی حصہ نہ دے کر محروم کرنے پر بڑی سخت وعید آئی ہے،حتی کہ جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ ایسے شخص کو قیامت کے دن اس کے جنت کے حصہ سے محروم کردیا جائے گا۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» (مشكاة المصابيح، کتاب الفرائض)
لہٰذا بیوہ کو چاہیے کہ وہ بہن بھائیوں کا شرعی حصہ انہیں ادا کرے ورنہ آخرت میں سخت پکڑ ہوگی۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 307202610228
فتویٰ آن لائن