info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





عدالتی خلع کو شوہر تسلیم کرلے تو حکم


سوال: میری بیٹی لائقہ اقبال کی اپنے شوہر احمد رضا کے ساتھ نہ بن سکی تو ہم نے بذریعہ عدالت خلع کی ڈگری لے لی، اور شوہر (احمد رضا) نے اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے الگ سے تحریر بھی لکھ دی ہے ، جوکہ ساتھ لف ہے۔ آیا اب بچی کی علیحدگی ہوگئی ہے یا نہیں؟


جواب:

برتقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں جب احمد رضا (شوہر) نے عدالتی خلع کے فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے تو اس سے لائقہ اقبال پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے، عدت گزرنے کے بعد لائقہ اقبال دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔ دوبارہ رجوع کرنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نیا حق مہر طے کرتے ہوئے نکاح کرکے آباد ہوسکتے ہیں۔ اگر اس خلع کے علاوہ شوہر نے کبھی طلاق نہیں دی، نہ زبانی اور نہ ہی تحریری کو نکاح کرنے کے بعد شوہر کو صرف دو طلاقیں دینے کا اختیار باقی رہے گا۔ لیکن اگر یہ یکطرفہ خلع ہے کہ شوہر بالکل حاضر ہی نہ ہوا یا عدالت میں حاضر ہوا لیکن فیصلے کو تسلیم نہ کیا تو اس طرح شرعاً نکاح برقرار ہے، جیساکہ دار الافتاء بنوری ٹاؤن ، کراچی کا تفصیلی فتوی موجود ہے۔

 

لما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:

 

وأما ركنه (أي الخلع) فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول

 

(كتاب الطلاق،3/ 145 ط:دار الكتب العلمية)

 

هكذا في رد المحتار (الدر مع الرد، كتاب الطلاق، باب الخلع، 3/ 441 ط: دارالفكر)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 726202610388

فتویٰ آن لائن


احکام الطلاق اقسام الطلاق خلع