info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





شوہر سے فرار ہو کر دوسرے شخص سے نکاح کا شرعی حکم


سوال: ایک شخص کی منکوحہ بھاگ گئی، جبکہ اس نے اس کو کوئی طلاق وغیرہ نہیں دی تھی۔۔۔اور اب وہ کسی اور آدمی کے ساتھ آباد ہوگئی ہے۔۔۔ آیا دوسرے آدمی کا اس سے نکاح ہوا یا نہیں ؟جزاكم الله خيرا


جواب:

واضح رہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں جب تک زوجین کے درمیان فرقت یا طلاق وغیرہ ہوکر عدت نہ گزر جائے عورت کا آگے دوسرے آدمی سے نکاح کرنا حرام و ناجائز ہے، اور عورت بدستور شوہر اول کی منکوحہ شمار کی جاتی ہے۔

لما فی الفتاوى الهندية:

 

لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة.

 

(کتاب النکاح، 1 / 280 ط:دارالفکر)

 

ولما فی الدر المختار:

 

( كل صلح بعد صلح فالثاني باطل وكذا ) النكاح بعد النكاح.

 

(کتاب النکاح، 5 / 636 ط:دارالفکر)

 

ولما فی البحر الرائق:

 

والسادس المحرمة لحق الغير كمنكوحة الغير ومعتدته۔۔۔

 

(کتاب النکاح،8 / 10 ط: دارالکتاب الإسلامي)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 531202610324

فتویٰ آن لائن


جائز و ناجائز ولایت نکاح