دو مختلف شوہروں سے اولاد ہونے کی صورت میں تمام اولاد وراثت کی حقدار ہوگی
سوال: میری والدہ مسماۃ نور جہاں کا انتقال ہو گیا ہے، ان کی دو شادیاں تھیں، پہلے شوہر سے چھ بیٹے اور چار بیٹیاں ہوئیں، دوسرے سے ایک بیٹا ہے۔ شوہر فوت ہوچکے ہیں اور اولاد ساری حیات ہے۔ مرحومہ کے ترکہ میں ایک مرلے کا پلاٹ، تین تولہ سونا، سو سوٹ سلے ہوئے اور پچاس سوٹ بغیر سلے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب:
مسئلہ18 نور جہاں (متوفیہ)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
2 2 2 2 2 2 2 1 1 1 1
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ نور جہاں(مرحومہ) کا کل ترکہ 18 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
باقی لباسوں کی مالیت لگا کر فروخت کرکے تقسیم کیا جائے ، اور اگر کوئی وارث اپنا حصہ دوسرے کو بلا معاوضہ یا بالعوض دینا چاہےتو اس کی بھی اجازت ہے۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 726202610391
فتویٰ آن لائن