مرحوم کے ترکہ کی شرعی تقسیم کا مکمل حساب
سوال: میرے بھائی کا انتقال ہوچکا ہے، ورثاء میں 1 بیوہ، 4 بھائی ، 2 بہنیں ہیں۔ مرحوم کے والدین کا انتقال اس کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، نیز مرحوم لاولد تھا۔ مرحوم کے ترکہ میں زمین، کیش، سامان ، اسٹیٹ لائف انشورنس سے اندازاً 3 لاکھ روپے بیوی کے نام ملنے ہیں؛کیونکہ مرحوم نے کمپنی میں اس کا نام دیا ہوا ہے۔ ہر ایک کا شرعی حکم بتا دیں۔ نیز سونے کا سیٹ 9 ماشے کا بھابھی کو دیا تھا۔
جواب:
مسئلہ4/40 مضروب 10
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ ---بھائی -بھائی--- بھائی--- بھائی--- بہن ---بہن
3 - 1
3 - 3 - 6 - 6 - 6 - 6 - 10
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد از ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد یونس(مرحوم) کا کل ترکہ 40 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
جو چیزیں، زیور، سامان شوہر نے بیوی کو گفٹ (ھبہ) کردیا تھا، وہی اس کی مالک ہے، مرحوم کے ترکہ میں یہ شمار نہ ہوگا۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کرانا شرعاً حرام ہے، اس لئے جتنی رقم مرحوم نے جمع کرائی تھی، وہ مرحوم کے ترکہ میں شمار ہوگی، صرف بیوی کو نہیں ملے گی ، زائد رقم کو بغیر نیت ثواب کسی انتہائی مستحقِ زکوۃ شخص کو دے دیں۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 531202610329
فتویٰ آن لائن