بہن اور بہنوئی سے زکوٰۃ لینے کا شرعی حکم
سوال: سائل کے زیرِ کفالت بیوی، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں، اور حال یہ ہے کہ میری ملکیت میں کوئی پلاٹ، مکان، نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے اور بندہ کی مالی حالت انتہائی بدحال ہے ۔ ۱۔۔۔میرے بہن بہنوئی صاحبِ حیثیت ہیں، آیا میں ان سے زکوۃ لے سکتا ہوں؟ ۲۔۔۔ بہن بھائی ایک دوسرے کو زکوۃ دے سکتے ہیں۔
جواب:
۱۔۔۔ زکوۃ و عشر وغیرہ اس شخص کیلئے لینا جائز ہے جو نصاب(یعنی کم از کم ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کے بقدر رقم خواہ بانڈز کی شکل میں ہو یا ضرورت سے زائد اشیاء اتنی مالیت کی ہوں) کا مالک نہ ہو۔ لہذا سائل کے تحقیق ِ حال سے یہی بات معلوم ہوجائے کہ یہ نصاب کا مالک نہیں ہے تو بہن بہنوئی کا اس کو زکوۃ و عشر وغیرہ دینا شرعاً درست ہیں۔
لما في الدر المختار:
مصرف الزكاة والعشر۔۔۔ (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة
(الدرمع الرد، كتاب الزكوة، 2/ 339 ط: دارالفكر)
۲۔۔۔ بہن بھائی ایک دوسرے کو زکوۃ دے سکتے ہیں۔بلکہ بہن ، بھائی، بہنوئی وغیرہ کا دوسروں کو زکوۃ دینے کے بجائے رشتہ داروں میں سے جو مستحقِ زکوۃ ہو اس کودینا افضل ہے؛ کیونکہ اس کو زکوۃ دینے کی صورت میں دوہرا (ڈبل) ثواب ملے گا، ایک ادائیگیِ زکوۃ کا ، دوسرا صلہ رحمی کا ۔
لما في رد المحتار:
وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة
(الرد مع الدر، كتاب الزكوة، باب مصرف الزكاة والعشر، 2/ 346 ط: دارالفكر)
ولما في البحر الرائق:
أن الأفضل صرف الزكاتين يعني زكاة المال، وصدقة الفطر إلى أحد هؤلاء السبعة الأول إخوته الفقراء وأخواته
(البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الزكوة، باب صدقة الفطر، 2/ 275 ط:دارالكتاب الإسلامي)
ولما في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:
الأفضل صرف الصدقة إلى أخواته ذكورا أو إناثا
(كتاب الزكوة، 1/ 333 ط:دارالكتب العلمية)
ولما في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:
من سوى ما ذكر يجوز الدفع إليهم كالأخوة والأخوات والأعمام والعمات والأخوال والخالات الفقراء بل هم أولى لما فيه من الصلة مع الصدقة
(كتاب الزكوة، باب المصرف، ص: 721، ط:دارالكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 727202610397
فتویٰ آن لائن