عدت کے دوران بہن سے نکاح اور غیر کی منکوحہ سے شادی کا شرعی حکم
سوال: زینب کا نکاح جمیل سے برادری ورشتہ داروں کی موجودگی میں ہوا، پھر وہ اپنے بہنوئی زاہد کے ساتھ بھاگ گئی اور جاکر اس سے کورٹ میرج کرلیااورجمیل نے اسی دن اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ آیا شرعاً یہ جائز ہےکہ بہن کی عدت میں دوسری بہن سے نکاح کرلے؟ 2۔ غیر کی منکوحہ سےطلاق لئے بغیر نکاح کرنا شرعاً کیسا ہے؟ 3۔ ان کے اس فعلِ بد میں تعاون ومشورہ دینے والوں کا کیا حکم ہے؟
جواب:
1۔ واضح رہے کہ بیوی کی عدت ختم ہونے سے پہلے اس کی بہن سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں۔
لما في الهداية:
" وإذا طلق امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا لم يجز له أن يتزوج بأختها حتى تنقضي عدتها "
(كتاب النكاح، فصل في بيان المحرمات ، 1/ 188 ط: دار احياء التراث العربي)
2۔ شریعتِ اسلامیہ میں جب تک زوجین کے درمیان فرقت یا طلاق وغیرہ ہوکر عدت نہ گزر جائے عورت کا آگے دوسرے آدمی سے نکاح کرنا حرام و ناجائز ہے، اور عورت بدستور شوہر اول کی منکوحہ شمار کی جاتی ہے۔ لہٰذا زینب کایہ فعل حرام ہے، اس پر سچے دل سے نادم ہوکر اللہ تعالیٰ سے خوب توبہ و استغفار کرے۔اور زاہد سے فوراً علیحدگی اختیار کرلے۔
لما فی الفتاوى الهندية:
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة.
(کتاب النکاح، 1 / 280 ط:دارالفکر)
ولما فی الدر المختار:
( كل صلح بعد صلح فالثاني باطل وكذا ) النكاح بعد النكاح.
(کتاب النکاح، 5 / 636 ط:دارالفکر)
2۔ اس فعلِ بد پر تعاون کرنا کبیرہ گناہ اور حرام ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو فوراً اپنے فعل پر اعلانیہ توبہ کرنی چاہیے۔جیساکہ ارشادِخداوندی ہے:{وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } [المائدة: 2]
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 307202610224
فتویٰ آن لائن