پٹی پر مسح کرنے والے امام کی اقتداء کا شرعی حکم
سوال: مسجد کے امام کا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے اور ہاتھ پر پٹی بندھی ہوئی ہے ۔اب اس مٹی پر مسح کرکے تندرست لوگوں کو نماز پڑھا سکتا ہے؟ جبکہ کبھی کبھار اس کے پیچھے حفاظ کرام بھی موجود ہوتے ہیں۔
جواب:
واضح رہے کہ عذر کی وجہ سے پٹی پر مسح کرنے والا تندرست وضوء کرنے والوں کا امام بن سکتا ہے۔
لما في المبسوط للسرخسيؒ:
وبالإجماع إمامة الماسح للغاسل جائزة
(كتاب الصلاة، باب صلاة المريض، 1/ 214 ط:دارالمعرفة)
ولما في مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح
صح اقتداء "غاسل بماسح" على خف أو جبيرة أو خرقة قرحة لا يسيل منه شيء
(المراقي مع الطحطاوي، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ص: 295، ط:دارالكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 307202610220
فتویٰ آن لائن
پٹی پر مسح کرنے والے امام کی اقتداء کا شرعی حکم #امامت #مسح_علی_الجبیرہ #نماز #فقہی_مسائل #مسجد