مرحومہ کے زیور پر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کا شرعی حکم اور ادائیگی کا طریقہ
سوال: ہماری والدہ ماجدہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ انھوں نے کچھ زیور وزن پونے پانچ تولہ ۲۰۰۳ میں بنوائی تھیں۔ ۱۔ کیا اس زیور پر زکوۃ ادا کرنا فرض ہے؟ ۲۔ اگر اس پر زکوۃ ادا کرنا فرض ہے تو کس حساب سے ۲۰۰۳ سے ادا کی جائے گی؟ اس کا طریقہ کیا ہوگا؟
جواب:
واضح رہے کہ عموماً ہزار، پانچ سو ، سو روپے ہر انسان کے پاس ہوتے ہیں۔ اس لئے خالدہ مرحومہ پر زکوۃ فرض تھی؛کیونکہ سونے کے ساتھ کچھ نقدی بھی ہو تو اس میں چاندی کا نصاب دیکھا جاتا ہے،سونے کے نصاب کا اعتبار نہ ہوگا؛کیونکہ انفع للفقراء کی یہی صورت ہے۔
باقی زکوۃ کا وجوب زیور کی آج کی مالیت سے ہوگا۔ آج اس کی قیمت لگوا لی جائے۔ اگر مرحومہ نے کوئی نقد رقم چھوڑی ہے تو اسے بھی ساتھ شامل کرلیا جائے۔۔۔ مجموعہ مالیت کا ۴۰/۱ حصہ الگ کرلیا جائے، یہ ۲۰۰۳ء کی زکوۃ بن گئی۔ پھر باقی رقم سے دوبارا ۴۰/۱ حصہ الگ کرلیا جائے تو یہ ۲۰۰۴ء کی زکوۃ بن جائے گی۔۔۔ اس طرح۴۰/۱ حصہ الگ کرتے رہیں ۔ یہ ادائیگیِ زکوۃ کا حکم تب ہے جبکہ تمام ورثاء اس پر راضی ہوں۔ اگر وہ راضی نہ ہوں تو ان کے ذمہ والدہ مرحومہ کی زکوۃ ادا كرنا لازم نہیں؛کیونکہ انھوں نے اس کی کوئی وصیت نہیں کی تھی۔
لما في تحفة الفقهاء:
وإن لم يوص وتبرع الورثة جاز وإن لم يتبرعوا لا يلزمهم الأداء بل يسقط في حكم الدنيا
(كتاب الصوم، قبيل مسئلة النذر، 1/ 360 ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 307202610221
فتویٰ آن لائن