یزید پر لعنت جائز ہے یا نہیں
سوال: کچھ دن پہلے دوست احباب کی محفل میں یزید کے بارے میں بات چل پڑی، ایک دوست یزید کو گالیاں دینے لگا، اور لعنت کرنے لگا، میں نے اس سے کہا کہ گالیاں دینے اور لعنت کرنے سے تجھے کیا مل رہا ہے؟ برائے مہربانی شرعی طور پر بتا دیں کہ یزید پر لعنت کرنا کیسا ہے؟
جواب:
خیر الفتاوی (۱/۱۳۵) میں یزید کے متعلق ایک سوال کاجواب دیا گیا ہے کہ:
"نہ تو یزید پر لعنت کی جائے، اور نہ ہی برا بھلا کہا جائے، اور نہ ہی سب و شتم کیا جائے اور نہ ہی کوشش کی جائے کہ اس کو اپنے رتبہ سے بڑھا کر خلیفہ راشد قرار دیا جائے اور نہ ہی حضرت حسینؓ کو باغی کہا جائے اور نہ ہی ان کی تنقیص کی جائے جیساکہ بعض لوگ شیعہ کے خلاف ضد میں آکر کہہ دیتے ہیں، سلامتی کی بات یہ ہے کہ صحابہ ؓ و تابعین کے زمانہ میں جو اختلافات ہوئے ان کو موضوعِ بحث بنایا جائے اور نہ ہی ان میں کوئی رائے زنی کی جائے۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 125202610022
فتویٰ آن لائن