info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





طلاق دیتا ہوں تین بار کہنے کی صورت میں حکم


سوال: میری شادی کو تین سال ہو گئے ہیں، شروع دن سے ہی لڑائی جھگڑے رہتے تھے لیکن میں برداشت کرتا رہا۔ ایک رات لڑائی میں بات بگڑ گئی، صبح ہوتے ہی میں اپنے سسرال گیا، میں نے اپنے سسر سے کہا کہ آپ کی بیٹی نے مجھے تنگ کر دیا ہے، سسر نے کہا اس کو گھر بھیج دو، میں نے سسر سے اپنی بیوی کی بات کرانے کی کوشش کی تو اس نے فون نہیں اٹھایا، پھر میں گھر آگیا، پھر میں نے فون کیا اپنے سسر سے بیوی کی بات کرائی، اس نے اپنی بیٹی کو کہا گھر آجاؤ، اس نے کہا کہ آؤں گی تو خلع لے کر ہی آؤں گی، سسر نے کہا تم آ جاؤ! خلع تومیں اس کا گریبان پکڑ کر دلوا دوں گا، یہ بات سن کر مجھے غصہ آیا اور میں نے کہا کہ آپ کو گریبان پکڑنے کی ضرورت نہیں، میں اس کو فارغ کر دوں گا،اور بیوی کو کہا کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“، ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،“ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“۔ سوال یہ ہے کہ اس حالت میں طلاق کا کیا حکم ہے؟


جواب:

تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ اب نہ رجوع جائز ہے، نہ نکاح جدید کافی ہے اور نہ ہی دوبارہ آباد ہو سکتے ہیں

لقوله تعالى فان طلقها فلا تحل له من بعد الاية
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 125202610015

فتویٰ آن لائن


طلاق دیتا ہوں تین بار کہنے کی صورت میں حکم