ایک کاروبار میں بغیر شریک کو بتائے تو اپنا پیسہ لگا دینے کا حکم
سوال: ۱۔ ایک آدمی کے چار بیٹے ہیں اور وہ چاروں والد کے ساتھ کام کرتے ہیں، کاروبار والد ہی کا ہے، بیٹوں نے خوب اس کاروبار میں محنت کی ہے، تو کیا کوئی بیٹا اپنے والد سے اپنی کاروباری محنت کی وجہ سے کاروبار میں سے کسی چیز کا مطالبہ کرسکتا ہے؟ اور اگر والد چاروں کو باوجود مطالبہ کےکچھ بھی نہ دیں کیونکہ کاروبار ان ہی کا ہے، اور ابھی بھی وہی مالک ہیں، تو شرعاً وہ مجر م ہوں گے ؟عند اللہ ان کا مواخذہ ہوگا؟ ۲۔ والد کے چار بیٹے ہیں، جبکہ کاروبار والد اور تمام بیٹوں کا مشترکہ ہے، ان میں ایک بیٹا زیادہ کماتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ میں سائیڈبزنس سے کماتا ہوں، سائید بزنس بھی مشترکہ کاروبار ہی کی نوعیت کا ہے اور وہ سائیڈ بزنس بھی اسی دکان یا آفس میں بیٹھ کرتا ہے، جبکہ والد اور بقیہ بھائی اس کے اس سائیڈ بزنس پر خوش نہیں ہیں، تو آیا یہ سائیڈ بزنس کرنامذکورہ بیٹے کیلئے جائز ہے یا نہیں؟اس کی آمدنی شرعاً کیا حیثیت ہے؟ ۳۔ اگر چاروں میں سے کسی ایک کی بیوی اپنے خاوند کو کچھ رقم کاروبار کیلئے دیتی ہے، جس سے شوہر کاروبار کرتا ہے، جبکہ دیگر بھائیوں کو اس کا علم نہیں ہے، (اگر بقیہ بھائیوں کو علم ہوجائے تو وہ اس پر اعتراض کریں گے)تو آیا وہ اس رقم سے بیوی کو کچھ کما کر دے سکتا ہے یا نہیں؟جزاكم الله خيراً
جواب:
۱۔ واضح رہے کہ جب کاروبار والد کا ہو اور بیٹے اس میں ساتھ محنت کرنا شروع کردیں تو پھر بھی کاروبار والد ہی کا رہتا ہے، چاہے بیٹوں نے کئی سال محنت کی ہو۔شرعاً بیٹے اپنی محنت کا مستقلاً کوئی مطالبہ نہیں کرسکتے؛ کیونکہ ان کے اخراجات کا پورا ہونا ہی ان کی محنت کا عوض ہے۔
قال ابن عابدينؒ في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:
ذكر شيخ الإسلام جلال الدين في أب وابن اكتسبا ولم يكن لهما مال فاجتمع لهما من الكسب أموال الكل للأب لأن الابن إذا كان في عياله فهو معين له (كتاب الشركة، شركة العنان، 1/ 94 ط: دار المعرفة)
البتہ اگر والد ازخود کسی بیٹے کو اس کی محنت کی بناء پر کچھ دے دے تو اس میں مضائقہ نہیں، لیکن بیٹا اس پر والد کو مجبور نہیں کرسکتا۔ لما في مجلة الأحكام العدلية:
كل يتصرف في ملكه كيفما شاء (الكتاب العاشر: الشركات، الباب الثالث، الفصل الأول، رقم المادة :1192، ص: 230 ط: نورمحمد)
۲۔ اگر کاروبار والد کا ہے اور بیٹے اس کے ساتھ محنت کرتے ہیں تو کسی بیٹے کا والد کی اجازت کے بغیر مشترکہ کاروبار میں سائیڈ بزنس کرنا شرعاً ناجائز ہے۔
۳۔ بیوی کی دی ہوئی رقم سے شوہر کا اپنے والد کے کاروبار ہی میں سائیڈ بزنس کرنا شرعاً ناجائز ہے، البتہ مشترکہ کاروبار سے الگ دوسری دکان یا دوسرے شخص کے ساتھ مل کر الگ کاروبار کرنے کی اجازت ہے ، اور بہتر یہ ہے کہ دوسرےکاروبار کا والد کو بتلا کر شروع کرے۔ لما في الدر المختار:
(ولا) يملك أيضا (تجاوز بلد أو سلعة أو وقت أو شخص عينه المالك)؛لأن المضاربة تقبل التقييد المفيد
(الدر مع الرد، كتاب المضاربة، 5/ 650، 651 ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 125202610016
فتویٰ آن لائن