وتر کے بعد دو سجدے کرنا اور ایت الکرسی پڑھنے کا عمل کا عدم ثبوت
سوال: "کتاب نماز" میں حدیث کے حوالہ سے وتروں کے بعد ایک عمل لکھا ہوا ہے کہ جو شخص وتروں کے بعد دو سجدے اس طور پر کرے کہ ہر سجدہ میں پانچ مرتبہ "سبوح قدوس رب الملٓئكةوالروح"پڑھے گااور جلسہ میں ایک مرتبہ آیۃالکرسی پڑھے گاتو اس کے اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے بخشش کردی جائےگی، اس کو سو حجوں و سو عمروں کا ثواب ملے گا،اور اللہ (تعالی) اس کو شہداء کا ثواب عطاء فرمائیں گے، اور اس کیلئے ہزار فرشتوں کو مقرر کردیں گےکہ اس کیلئے نیکیاں لکھیں، اور گویا اس نے سو غلام آزاد کئے ہوں، اس کی دعا قبول کریں گے، اور قیامت کے دن ساٹھ اہلِ جہنم کے حق میں اس کی سفارش قبول فرمائیں گے، اور جب مرے گا تو شہادت کی موت مرے گا۔۔۔ آیا مذکورہ عمل کرنا درست ہے یا نہیں؟جزاكم الله خيراً
جواب:
مذکورہ حدیث فتاوی تاتارخانیہ میں "المضمرات" کے حوالہ سے نقل کی گئی ہے:
المضمرات: عن النبیﷺ أنه قال لفاطمةؓ: ما من مؤمن ولا مؤ منة يسجد بعد الوتر سجدتين، يقول في سجوده خمس مرات"سبوح قدوس رب الملائكة والروح" ثم يرفع رأسه ويقرأ آية الكرسي مرة، ثم يسجد ويقول في سجوده خمس مرات "سبوح قدوس رب المائكة والروح" والذى نفس محمد بيده أنه لا يقوم من مقامه حتى يغفر له، وأعطاه ثواب مائة حجة ومائة عمرة، وأعطاه الله ثواب الشهداء، وبعث الله اليه ألف ملك يكتبون له الحسنات ، وكأنما أعتق مائة رقبة، واستجاب الله تعالى دعائه، ويشفع يوم القيامة في ستين من أهل النار، وإذا مات مات شهيدا
(كتاب الصلاة، الفصل الثالث عشر، مسائل الوتر، رقم المسئلة2617، 2/346 ط:رشيدية)
اس حديث كے متعلق شیخ ابراہیم حلبیؒ فرماتے ہیں:
وأما ما ذكره في التاتارخانية عن المضمرات أن النبيﷺ قال لفاطمةؓ: ما من مؤمن ولا مؤمنة يسجد بعد الوتر سجدتين۔۔۔ فحديث موضوع باطل لا أصل له، ولا يجوز العمل به ولا نقله إلا لبيان بطلانه كما هو شأن الأحاديث الموضوعة، ويدلك على وضعه ركاكته والمبالغة الغير الموافقة للشرع والعقل، فإن الأجر على قدر المشقة شرعا و عقلا، وأفضل الأعمال احمزها، أنما قصد بعض الملحدين بمثل هذا الحديث إفساد الدين وإضلال الخلق، إغرائهم بالفسق وتثبيطهم عن الجد في العبادة، فيغتر به بعض من ليس له خبرة بعلوم الحديث و طرقه ولاملكة يميز بها بين صحيحه و سقيمه۔۔۔ الخ
ترجمہ: "وہ حدیث جو مضمرات (کے حوالہ) سے تاتارخانیہ میں نقل کی گئی ہے کہ نبی (کریم ﷺ) نے (حضرت) فاطمہ ؓ سے فرمایا: کوئی مومن مرد یا عورت وتروں کے بعد دو سجدے کرتا ہے۔۔۔۔ سو یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے، باطل ہے، اس کی کوئی اصل نہیں، اور اس پر عمل کرناجائز نہیں اور نہ ہی اس کو (آگے) بیان کرنا جائز ہے ماسوا اس صورت کے اس کے باطل ہونے کو بیان کرے جیسا کہ (دیگر) موضوع احادیث کے بارے میں حکم ہے۔۔۔ بعض ملحدین نے اس جیسی حدیث سے دین کو خراب کرنے اور (جادہ) حق سے گمراہ کرنے۔۔۔ کا ارادہ کیا ہے۔۔۔(غنية المتملي شرح الكبير للمنية المصلي، ص617، ط:سهيل اكيدمي، لاهور)
نیز علامہ ابن عابدینؒ نے بھی مذکورہ حدیث کو من گھڑت باطل قرار دیا ہے۔
وأما ما ذكر في المضمرات أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال لفاطمة - رضي الله تعالى عنها -: «ما من مؤمن ولا مؤمنة يسجد سجدتين» إلى آخر ما ذكر ". فحديث موضوع باطل لا أصل له
(الدر مع الرد، كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة، 2/ 120 ط:دارالفكر)
الحاصل مذکورہ حدیث پر عمل کرنا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی اس کو آگے نقل کرنا جائز ہے، ماسوا اس صورت کے اس حدیث کا من گھڑت ہونا بیان کرنا مقصود ہو۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 125202610017
فتویٰ آن لائن