میڈیکل اسسٹنس اِن ڈائنگ (MAID) کے ذریعے موت اختیار کرنے کا شرعی حکم
سوال: یرا سوالMedical Assistance in Dying(MAID) کے متعلق ہے۔ MAIDمیںڈاکٹر یا نَرس کسی شدید بیمار مریض کو، اس کی درخواست پر، ایسی دوا فراہم کرتے یا دیتے ہیں جس سے مریض کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا مقصد ایسے مریضوں کو تکلیف سے نجات دینا بتایا جاتا ہےجو لا علاج بیماری میں مبتلا ہوں، یا شدید جسمانی یا ذہنی تکلیف برداشت کر رہے ہوں، اور اپنی مرضی سے یہ مریض زندگی ختم کرنے کی درخواست کریں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیاMAIDکا استعمال کرنا جائز ہے؟ کیاMAID کو اختیار کرنے کی شریعت میں کوئی گنجائش ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔
جواب:
صورتِ مسئولہ میں جس عمل کو MAID (Medical Assistance in Dying) کہا جاتا ہے، یعنی مریض کی درخواست پر ڈاکٹر یا نرس کا دوائیں دے کر یا کسی اور طریقے سے اس کی زندگی ختم کر دینا، یہ شرعاً قتلِ نفس کے حکم میں آتا ہے، خواہ مریض لاعلاج بیماری میں مبتلا ہو، شدید تکلیف میں ہو یا خود اپنی رضا مندی سے اس کا مطالبہ کرے۔
اسلامی شریعت میں انسانی جان کو نہایت محترم قرار دیا گیا ہے، اور کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی جان لے یا کسی دوسرے سے اپنی جان دلوائے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
(سورۃ النساء: 29)
ترجمہ:
اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر نہایت مہربان ہے۔
اور ایک اور مقام پر فرمایا:
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ
(سورۃ الانعام: 151)
نبی کریم ﷺ نے بھی خودکشی کو سخت گناہ قرار دیا ہے اور ایسے شخص کے لیے سخت وعید بیان فرمائی ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
لہٰذا:
مریض کے لیے اپنی موت کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔
ڈاکٹر یا نرس کے لیے ایسی دوا دینا یا کوئی ایسا عمل کرنا جس سے مریض کی جان ختم ہو، حرام اور ناجائز ہے۔
تکلیف اور بیماری پر صبر کرنا، علاج کروانا اور اللہ تعالیٰ سے شفا کی امید رکھنا ہی شرعاً درست طریقہ ہے۔
ہاں، اگر علاج بے فائدہ ہو تو غیر ضروری مشینوں یا تکلیف دہ علاج کو ترک کیا جا سکتا ہے، لیکن جان بوجھ کر موت دینا یا لینا کسی صورت جائز نہیں۔
لہٰذا MAID کو اختیار کرنا اور اس پر عمل کرنا شریعتِ اسلامیہ میں جائز نہیں ہے۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 125202610027
فتویٰ آن لائن