info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





وقف شدہ مسجد یا مدرسہ کی زمین بیچنے اور تبادلہ کرنے کا شرعی حکم


سوال: ایک کالونی کے کارنر میں ۴ کنال زمین مسجد و مدرسہ کیلئے وقف ہیں، اور کالونی کی دیوار کے باہرزید کا رقبہ ہے، پہلے وہ اپنے رقبہ میں دوسرے شخص کے رقبہ سے داخل ہوتا تھا، اب دوسرے شخص نے اپنے رقبہ میں دیوار بنا لی ہے، زید اپنے رقبہ میں جانے کیلئے مسجد و مدرسہ کے نام وقف زمین سے راستہ لینا چاہتا ہے، بدلہ میں وہ رقم یا متبادل زمین دینے کیلئے بھی تیار ہے۔ آیا مسجد و مدرسہ کیلئے وقف زمین سے راستہ دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟بينوا فتوجروا


جواب:

 

واضح رہے کہ مسجد یا مدرسہ کے نام زمین وقف ہوجانے کے بعد اس کو بیچنا یا متبادل لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔لہٰذا زید کو مسجد یا مدرسہ کی زمین بیچنا یا تبادلہ کرنا صحیح نہیں ہے۔

لما في الدر المختار:  

(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)

قال ابن عابدين:

(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك درر؛ ويستثنى من عدم تمليكه ما لو اشترط الواقف استبداله وسيأتي الكلام عليه۔۔۔ 

(الدر مع الرد،کتاب الوقف، 4/ 351،352 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم

 

 

 


فتوی نمبر : 126202610028

فتویٰ آن لائن


وقف, مسجد, مدرسہ, زمین, خرید و فروخت, تبادلہ, شرعی حکم, درمختار, ابن عابدین