والد کی طرف سے نان نفقہ میں کوتاہی اور بیٹے کا کاروبار سے رقم لینے کا شرعی حکم
سوال: اگر کوئی والد اپنے بیٹے کو جیب خرچ نہ دیتا ہو اور نہ اس کا درست علاج کرواتا ہو، اور بیٹا والد کے کاروبار میں کام کرتے ہوئے کچھ رقم جمع کرلے، تو کیا وہ رقم بیٹے کے لیے حلال ہے؟ نیز والد کی ایسی کوتاہی کا شرعی حکم کیا ہے اور بیٹے کے لیے درست طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟
جواب:
سائل کے والد کا سائل کو جیب خرچ نہ دینا اور نہ درست علاج کرانا اخلاقاً درست نہیں۔ والد کو چاہیے کہ وہ بیٹے کو بطور ملازم رکھ لے اور ماہانہ اجرت دیا کرے اور سائل اسی سے اپناخرچ و علاج معالجہ کرلیا کرے۔ اگر والد صاحب کچھ نہیں دیتے تو پھر سائل خاموشی سے اپنا علیحدہ کام کرلے۔
باقی سائل نے جورقم والدصاحب کے کاروبار سے اکٹھی کی ہے وہ سائل کیلئے حلال نہیں، بلکہ اس کے والد کی ملکیت ہے۔ سائل کو چاہیے کہ اس رقم کو والد تک پہنچا دے اور والد کو بتانا ضروری نہیں کہ رقم آپ کی ہے اور میں نے اس طرح جمع کی تھی، بلکہ ان کو جائز کیش یا کسی طریقے ان تک پہنچا دے۔لما في الدر المختار:
(ویجب رد عین المغصوب) ما لم تغیر تغیرا فاحشا مجتبی (فی مکان غصبه)۔۔۔ و یبرأ بردها ولو بغير علم المالك
(كتاب الغصب، 6/182 ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 130202610041
فتویٰ آن لائن