info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





والد کے کاروبار میں کام کرنے والے بیٹوں پر قربانی کا حکم


سوال: اگر والد کے شروع کردہ کاروبار میں بیٹے بھی کام کرتے ہوں اور کاروبار کی آمدنی والد ہی لیتا ہو، تو کیا اس آمدنی کی وجہ سے بیٹوں پر قربانی واجب ہوگی؟ یا قربانی صرف اسی صورت میں لازم ہوگی جب بیٹے ذاتی طور پر نصابِ قربانی کے مالک ہوں گے؟


جواب:

واضح رہے کہ والد کے شروع کردہ کاروبار میں بیٹے کام کرنے لگ جائیں تو کاروبار اور اس کی مکمل آمدنی والد ہی کی ہوتی ہے، اور بیٹوں کی حیثیت معاون وغیرہ کی ہوتی ہے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ کاروبار اور اس کی آمدنی والد ہی کی ملکیت ہے، بیٹوں کی نہیں، اس لئے کاروبار کی آمدن کی وجہ سے بیٹوں پر قربانی لازم نہیں ہوگی، البتہ اگر بیٹے کاروبار کی آمدن کے علاوہ نصابِ قربانی کے مالک ہوں تو اس کی وجہ سے ان پر قربانی واجب ہوگی۔

قال ابن عابدينؒ في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:

ذكر شيخ الإسلام جلال الدين في أب وابن اكتسبا ولم يكن لهما مال فاجتمع لهما من الكسب أموال الكل للأب لأن الابن إذا كان في عياله فهو معين له (كتاب الشركة، شركة العنان، 1/ 94 ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم


فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 130202610043

فتویٰ آن لائن


والد کے کاروبار میں کام کرنے والے بیٹوں پر قربانی کا حکم قربانی نصاب_قربانی والد_اور_بیٹے مشترکہ_کاروبار آمدنی_کی_ملکیت فقہ_حنفی مسائل_قربانی اسلامی_احکام شرعی_مسئلہ فتویٰ