info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





VPN اور PROXY softwares کا استعمال کرنے کا حکم


سوال: سوال 1۔ پراکسی سافٹ وئیر یا وی پی این سافٹ وئیر کو استعمال کرنا کیا جائز ہے کہ نہیں ؟ ان کے مختلف استعمالات ہیں جیسے ڈیٹا پرایویسی، جیو سپوفنگ وغیرہ۔ اس جیو سپوفنگ میں یہ وی پی این سافٹ وئیرکسی مخصوص سافٹ وئیر یا سروس والوں کو دھوکہ دے کر یہ بتلاتا ہے کہ تم دوسرے ملک سے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہو مثلاپی ٹی اےوالوں نے پاکستان میں ٹیلی گرام ایپ یا یوٹیوب بند کر دیا ہو تو پاکستان میں پھر ٹیلی گرام ایپ یا یوٹیوب نہیں کھلے گا۔پر جب موبائل یا کمپیوٹر میں یہ وی پی این ایپ یا سافٹ وئیر کھولا جاتا ہے تو یہ انٹرنیٹ والوں سے ایک طریقے سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس موبائل یا کمپیوٹر والا پاکستان سے اس کو استعمال نہیں کررہا بلکہ دوسرے کسی ملک سے استعمال کر رہا ہے تو اس طرح ٹیلی گرام ایپ یا یوٹیوب پاکستان میں بھی کھل جاتا ہے۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ آیا اس طرح کرنا کیا ٹھیک ہے کہ نہیں؟ کیونکہ اس کو استعمال کرکے دھوکہ دہی کا شبہ ہوتا ہے؟ 2۔ حکومت (یا اس کے ذیلی ادارے) نے جب کسی مخصوص ایپلیکیشن یا ویب سائٹ کو استعمال کرنے پر پابندی لگائی ہو (جس طرح یہی ٹیلی گرام ، اور گزشتہ ایام میں یوٹیوب وغیرہ پر لگائی تھی جو پھر بحال کر دی گئی وغیرہ) تو اب اگر کوئی اس وی پی این سافٹ وئیر کو استعمال کرکے ان ایپلیکشنز یا ویب سائٹس کو استعمال کرتا ہے تو کیا اس استعمال کرنے والے کو گناہ ہو گا ؟کہ اس نے حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے ؟


جواب:

1) وی پی این اور پراکسی سافٹ ویئرز کے مختلف استعمالات اور مقاصد ہوتے ہیں، اگر اس کے استعمال سے مقصد جھوٹ اور دھوکہ دہی کے ذریعے اپنی شناخت اور لوکیشن کسی اور ملک کی ظاہر کرکے ممنوعہ یا غیر قانونی ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز استعمال کرنا ہو یا ، تو یہ بوجہ جھوٹ اور دھوکہ کے ناجائز ہے۔

 

اور اگرمحض جائز مقاصد ، (مثلاً:اپنی ذاتی معلومات محفوظ رکھنے (privacy) کے لیے) استعمال کیا جائے اور اس میں کسی قانون کی خلاف ورزی یا کسی کو نقصان پہنچانا شامل نہ ہو تو اس کی گنجائش ہوگی۔

 

2)ان سافٹ ویئرز کا استعمال اگر محض جھوٹ اور دھوکہ دہی کے لیے کیا جائے، تو جھوٹ اور دھوکہ کا گناہ ہوگا۔نیز قانون کی خلاف اپنی جان اور عزت آبرو کو خطرے میں ڈالنے اور سزا ملنے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے شریعت نے ہمیں روکا ہے، اور جائز امور میں حکومت وقت کی اطاعت کا حکم بھی دیا ہے۔

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:

 

’’آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ.‘‘

 

 ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں، اگرچہ وہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے: ایک یہ کہ جب بولے تو جھوٹ بولے،دوسرے یہ کہ جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے اور تیسرے یہ کہ جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔

 

(الصحيح لمسلم ومسند أبي يعلى، ج:11، ص:406، ط:دار المأمون للتراث - دمشق)

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جھوٹ اور خیانت کو مسلمان کی شان کے خلاف بتا یا ہے، ارشاد فرمایا کہ:

 

’’يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كُلِّهَا إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ.‘‘

 

ترجمہ: مؤمن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔

 

(مسند أحمد، ج:36، ص:504، ط:مؤسسة الرسالة)

 

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

 

’’عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا. وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَة مُسلم قَالَ: «إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ. وَإِنَّ الْكَذِبَ فُجُورٌ وَإِنَّ الْفُجُورَ يهدي إِلَى النَّار.‘‘

 

ترجمہ: تم پر سچ کہنا لازم ہے، اس لیے کہ سچ نیکی کی طرف لے جاتاہے، اور بے شک نیکی جنت تک لے جاتی ہے، اور آدمی برابر سچ کہتارہتاہے اور سچ کی تلاش میں رہتاہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں "صدیق" (سچائی کے خاص مقام پر) لکھ دیا جاتاہے۔ اور خبردار تم جھوٹ سے بچ کر رہو ؛ اس لیے کہ جھوٹ گناہ و نافرمانی کی طرف لے جاتاہے، اور گناہ جہنم تک لے جاتاہے، اور آدمی برابر جھوٹ بولتارہتاہے اور جھوٹ کی تلاش میں رہتاہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں "کذاب" (بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتاہے۔

 

(مشکاة المصابیح، ج:3، ص:1386، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

 

شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

 

"(المادة ١٩) :لا ضرر ولا ضرار.

 

يجب أن لا يفهم من كلمة (لا ضرر) أنه لا يوجد ضرر، بل الضرر في كل وقت موجود والناس لا يزالون يفعلونه، وإنما المقصود هنا أنه لا يجوز الضرر أي الإضرار ابتداء، كما لا يجوز الضرار أي إيقاع الضرر مقابلة لضرر.

 

هذه القاعدة وإن كانت عامة فهي من نوع العام المخصوص لا تصدق إلا على قسم مخصوص مما تشمله؛ لأن التعازير الشرعية ضرر، ولكن إجراءها جائز، ...........

 

فهذه الأضرار وما ماثلها يجوز إجراؤها ولا تدخل تحت هذه القاعدة؛ لأنها كما ذكرنا هي من قسم العام المخصوص."

 

(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ج1،ص36، الناشر: دار الجيل)
فقط واللہ اعلم

 

 

 


فتوی نمبر : 126202610037

فتویٰ آن لائن


VPN اور PROXY softwares کا استعمال کرنے کا حکم Vpn software Proxy software