نکسیر کے خون سے سورۃ الفاتحہ لکھنے کا شرعی حکم
سوال: نکسیر کوخون سے سورۃ الفاتحہ لکھنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ کتب فقہ میں یہ بات مذکور ہے کہ اگر کسی کو نکسیر بہہ پڑے تو وہ اس خون سے اپنے ناک یا چہرے پر شفاء حاصل کرنے کیلئے سورۃ الفاتحہ لکھے ، تو اس کی گنجائش ہے۔
البحر الرائق:
وفي التتارخانية وإذا سال الدم من الأنف فكتب الفاتحة بالدم على الفم والوجه جاز للاستشفاء والمعالجة
(البحر مع منحة الخالق و تكملة الطوري، كتاب الكراهية، فصل في البيع، 8/ 235 ط: دارالكتاب الاسلامي)
ليكن اس کی اجازت مطلقاً نہیں ، بلکہ اس صورت میں ہے جب علاج کیلئے کوئی اور دوا نہ ہو اور مسلمان دیندار ماہر ڈاکٹر اس طرح کا عمل کرنےسے شفایاب ہونے کا کہہ دے ، تو پھر اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے،کیونکہ اس صورت میں یہ اضطراری حالت بن جائے گی ، اور حالت اضطرار میں مردار بقدر ضرورت کھانے کی گنجائش ہوجاتی ہے، جبکہ مذکورہ عمل مردار کھانے سے ادنی درجہ ہے تو اس کی بطریقِ اولی گنجائش ہوگی۔
باقی اس بات (کہ مذکورہ عمل کی حالتِ اضطرارمیں گنجائش ہے) پر قرائن درج ذیل ہیں:
۱۔ علامہ شامی ؒ اور علامہ ابراھیم ابن نجیمؒ صاحبِ النهر الفائقنے اس مسئلہ کو "التداوي بالمحرم "(یعنی حرام دوا کے ذریعہ علاج کرنے )کے تحت ذکر کیا ہے اورراجح قول کے مطابق حرام دواکے ذریعے علاج کرنے کی اجازت حالتِ اضطرار میں ہے۔
الدر المختار:
اختلف في التداوي بالمحرم وظاهر المذهب المنع ۔۔۔ لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص الخمر للعطشان وعليه الفتوى
قال ابن عابدينؒ في رد المحتار: (قوله اختلف في التداوي بالمحرم) ففي النهاية عن الذخيرة يجوز إن علم فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر۔۔۔ وكذا اختاره صاحب الهداية في التجنيس فقال: لو رعف فكتب الفاتحة بالدم على جبهته وأنفه جاز للاستشفاء
(الدر مع الرد، كتاب الطهارة، باب المياه، فروع التداوي بالمحرم، 1/ 210 ط: دارالفكر)
النهر الفائق شرح كنز الدقائق:
ففي الذخيرة الاستشفاء بالحرام يجوز اذا علم ان فيه شفاء ولم يعلم دواء اخر وفي التجنيس سال الدم من انفه فكتب به الفاتحة على انفه وجبهته جاز
(كتاب الطهارة، فصل في الابار، 1/ 86، ط: دار الكتب العلمية)
۲۔ علامہ شامیؒ نے خون سے سورۃ الفاتحہ لکھنے کی گنجائش کے ساتھ تصریح کی ہے کہ کسی کو نکسیر پھوٹ پڑے اور باکل بند نہ ہورہی ہوکہ اس کی موت کا خدشہ ہوجائے اور اسے اس بات کا یقین ہوکہ خون سے سورۃ الفاتحہ لکھنے سے میرا خون بند ہوجائے گا، تو ایسی اضطراری حالت میں راجح قول کے مطابق اس کے لکھنے کی گنجائش ہے۔چنانچہ رد المحتار میں فرمایا:
(قوله لكن نقل المصنف إلخ) مفعول نقل قوله وقيل يرخص إلخ والاستدراك على إطلاق المنع، وإذا قيد بالمظنون فلا استدراك. ونص ما في الحاوي القدسي: إذا سال الدم من أنف إنسان ولا ينقطع حتى يخشى عليه الموت وقد علم أنه لو كتب فاتحة الكتاب أو الإخلاص بذلك الدم على جبهته ينقطع فلا يرخص له فيه؛ وقيل يرخص كما رخص في شرب الخمر للعطشان وأكل الميتة في المخمصة وهو الفتوى. اهـ
(الدر مع الرد، أيضاً)
۲۔ أبو العباس أحمد بن محمد مكی المعروف ب "العلامۃ حمویؒ" نے اپنی الاشباه والنظائر کی شرح
"غمز عيون البصائر" میں مذکورہ مسئلہ کو قاعدہ "الضرورات تبيح المحظورات"کے تحت ذکر کیا ہے۔
غمز عيون البصائر:
وفي النوازل: كتب الفاتحة بالدم على الجبهة يجوز
(القاعدة الخامسة الضرر يزال، الضرورات تبيح المحظورات، 1/ 275 ط: دار الكتب العلمية)
۳۔ جن کتب میں سورۃ الفاتحہ کو خون کے ساتھ لکھنے کا جواز موجود ہے، اس کے ساتھ بول(پیشاب) کے ساتھ بھی لکھنے کاجواز بھی موجود ہے، اور بول(پیشاب) کے ساتھ لکھنے کو تو خود وہی عالم صاحب بھی حالتِ اضطرار میں اجازت دیں گے، تو یقیناً خون کے ساتھ لکھنے کی گنجائش بھی حالتِ اضطرار میں ہوگی۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 235)
ولو أراد أن يكتب ذلك بالبول لم ينقل ذلك عن المتقدمين وقيل لا بأس به إذا علم به الشفاء (البحر مع منحة الخالق و تكملة الطوري، كتاب الكراهية، فصل في البيع، 8/ 235 ط: دارالكتاب الاسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 130202610049
فتویٰ آن لائن