info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





کیا عثمانی جیسی نسبت بغیر نسب کے نام میں رکھنا جائز ہے؟


سوال: ایک شخص بلوچ قوم سے تعلق رکھتا ہے، اس نے اپنے بیٹے کا نام محمد سعود عثمانی رکھا ہے، جبکہ عام تحریرات میں نام کے آخر میں قوم یا نسبت لکھنے کا رواج نہیں ہوتا، اور اس طرح نام لکھنے سے بظاہر یہ شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نسل یا خاندان سے ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا شرعاً اس طرح نام کے آخر میں "عثمانی" لکھنا جائز ہے؟ اور اگر اس میں نسب کی تبدیلی یا اس کا شبہہ پیدا ہوتا ہو تو کیا اس نام کو ختم کرنا یا تبدیل کرنا ضروری ہے؟


جواب:

عام تحریرات میں نام کے آخر میں قوم لکھنے کا معمول نہیں، بلکہ صرف نام بمع نسبت لکھی جاتی ہے، اگر قوم لکھی جائے جیسے محمد سعود عثمانی، تو اس طرح لکھنے سے پڑھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ محمد سعود حضرت عثمان غنی ؓ کے خاندان میں سے ہے،جبکہ محمد سعود تو بلوچ قوم کا فرد ہے، گویا قوم کی تبدیلی کا شبہہ پیدا ہوگیا، اور آپ ﷺ نے اپنی قوم تبدیل کرنے والے پر جنت حرام ہونے، اوراللہ کی ، فرشتوں کی اورتمام انسانوں کی اس پر لعنت ،جیسی سخت وعیدات ارشاد فرمائی ہیں۔لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے نام کے آخر میں "عثمانی "کالفظ مکمل طور پر ختم کروا دے، یا کم از کم "عثمانی" کی "ی" کو حذف کرکے "عثمان" کر دیا جائے،تو اس صورت میں لفظ"عثمان " نام کا حصہ بن جائے گا، حضرت عثمان غنیؓ کی نسل و خاندان میں سے ہونے کا شبہہ ختم ہوجائے گا۔ لما في سنن ابن ماجه:

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "من انتسب إلى غير أبيه، أو تولى غير مواليه، فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين"

(أبواب الحدود ، باب من ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه، 3/ 632 ت: الأرنؤوط ط: دار الرسالة العالمية)

وفيه أيضاً:

عن أبي عثمان النهدي، قال:سمعت سعدا وأبا بكرة، وكل واحد منهما يقول: سمعت أذناي ووعى قلبي محمدا - صلى الله عليه وسلم - يقول: "من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام" (أيضاً)

ولما في مسند أحمد:

عن أبي ذر، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ليس من رجل ادعى لغير أبيه، وهو يعلمه إلا كفر۔۔۔۔ " (مسند الأنصار ، حديث أبي ذر الغفاري رضي الله عنه، 35/ 369 ط: الرسالة)

المراد بالكفر: كفران النعمة، أو لا يراد ظاهر اللفظ، وإنما المراد المبالغة في الزجر والتوبيخ، أو المراد أنه فعل فعلا يشبه فعل أهل الكفر (عمدة القاري شرح صحيح البخاري 16/ 80 رقم الحديث 8053 ط: داراحياء التراث العربي)

الحاصل اسے ختم کرنا یا تبدیل کرنا شرعاً ضروری ہے، جیسے بالفرض بچے کی اسنادمیں نام،یاولدیت یا تاریخِ پیدائش وغیرہ میں غلطی ہوجاتی تو تمام دستاویزات میں درست اندراج کروایا جاتا ہے، اسی طرح زیرِ بحث صورت میں اس اشتباہ کو دور کرنا ضروری ہے، تاکہ ان سخت وعیدات سے بچا جاسکے۔
فقط واللہ اعلم


فقط واللہ اعلم


فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 130202610051

فتویٰ آن لائن


کیا عثمانی جیسی نسبت بغیر نسب کے نام میں رکھنا جائز ہے؟ نسب تبدیل کرنا شرعاً حرام ہے #غلط_نسب #نام_کا_مسئلہ #اسلامی_اسماء #نسب_کی_حفاظت #قوم_کی_تبدیلی #فقہی_مسائل #اسلامی_فتویٰ #نام_تبدیل_کرنا #غلط_نسبت #حدیث_نبوی