نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنے اور لقمہ دینے کا شرعی حکم
سوال: کیا نماز میں امام کا قرآنِ مجید دیکھ کر پڑھنا درست ہے؟ اور اگر امام نماز میں مصحف دیکھ کر قراءت کرے تو کیا اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے؟ نیز اگر کوئی سامع قرآن دیکھ کر امام کو لقمہ دے اور امام وہ لقمہ لے لے تو امام اور مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسی نمازوں کی قضاء لازم ہوگی؟
جواب:
۱،۲۔ واضح رہے کہ قرآن مجید دیکھ کر پڑھنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، لہٰذا مذکورہ امام کا نماز میں قرآن مجید سے دیکھ کر پڑھنے سے نماز ٹوٹ گئی تھی اور اب امام اور مقتدیوں کے حنفی المسلک ہونے کی صورت میں سب کے ذمہ لازم ہے کہ جتنی مرتبہ نماز میں قرآن مجید دیکھ کر پڑها تها اتنی نمازیں قضاء کریں۔
۳۔ سامع کا قرآن مجید دیکھ کر لقمہ دینے سےسامع کی نماز جاتی رہی اور اگر امام نے اس کا لقمہ لے لیا تھا توامام کی نماز ٹوٹ گئی، لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر امام قرآن مجید دیکھ کرلقمہ دینے والے سامع کا لقمہ لے لیتا تھا تو امام اور مقتدیوں کے حنفی المسلک ہونے کی صورت میں سب کے ذمہ ان نمازوں کی قضاء لازم ہے۔
لما في الفتاوى الهندية:
ويفسدها قراءته من مصحف عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى۔۔۔
(كتاب الصلاة، 1/ 101ط:دارالفكر)
ولما فيه ايضا:
وإن فتح غير المصلي فأخذ بفتحه تفسد كذا في منية المصلي
(كتاب الصلاة، 1/ 99ط:دارالفكر)
ولما في بدائع الصنائع:
وإن كان مقتديا فإنه يحتاج إلى ما يحتاج إليه المنفرد ويحتاج لزيادة نية الاقتداء بالإمام لأنه ربما يلحقه الضرر بالاقتداء فتفسد صلاته بفساد صلاة الإمام
(كتاب الصلاة، 1/ 128 ط: دار المعرفة – بيروت)
ولما فيه ايضا:
وفساد صلاة المقتدي لا تؤثر في فساد صلاة الإمام ولفساد صلاة الإمام أثر في فساد صلاة المقتدي
(كتاب الصلاة، 1/ 225 ط: دار المعرفة – بيروت)
ولما في المبسوط للسرخسي:
فساد صلاة الإمام تفسد صلاة القوم
(كتاب الصلاة، 1/ 120ط: دار المعرفة – بيروت)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 130202610047
فتویٰ آن لائن