چچا کے ملکیتی دئیے ہوئے مکان کو مدرسہ کے لیے وقف کرنے کی شرعی حیثیت
سوال: میرا مکان جس میں میں رہتی ہوں، وہ میرے چچا کی ملکیت ہے، انھوں نے مجھے کہا ہے کہ مدرسہ بنا لو۔ میرا کوئی وارث نہیں ہے، میں یہ چاہتی ہوں کہ میں اپنی زندگی میں ہی اسے مدرسہ کے نام وقف کر دوں۔ آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کا حل عنایت فرمائیں۔
جواب:
مذکورہ مکان چونکہ سائلہ کے چچاکی ملکیت ہے، اس لئے اس کے وقف کرنے کا اصل اختیار انہی کو ہے، جب انھوں نے مذکورہ مکان کو مدرسہ بنانے کے ارادہ کا اظہار کیا ہے تو سائلہ کو بھی چاہیے کہ وہ اس خیر کے کام میں ان کے ساتھ بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور مذکورہ مکان کو مدرسہ بنا لیں۔ اور مدرسہ بنانے کے بعد اس کی خریدو فروخت یا دوسرے مکان یا جگہ سے تبدیل کرنا جائز نہ ہوگا، اور نہ ہی اس میں سائلہ کے چچا کی وراثت جاری ہوگی۔
لما فی درر الحكام شرح غرر الأحكام:
(وإذا لزم) الوقف (وتم لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه (ولا يملك) أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه (ولا يعار ولا يرهن) لاقتضائهما الملك (ولا يقسم۔۔۔ (کتاب الوقف، 2/ 134 ط: دار إحياء الكتب العربية)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 131202610061
فتویٰ آن لائن