info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





وقف شدہ زمین کی فروخت اور مدرسہ کی مالی ضروریات میں استعمال کا حکم


سوال: ایک شخص نے دینی ادارے کو کچھ رقم دی کہ اس کو مدرسہ کی ضروریات میں خرچ کریں،چنانچہ مہتمم صاحب نے اس رقم سے زرعی زمین خریدی کہ اس کو کاشت کرکے مدرسہ کے اخراجات میں صرف کیا جائے ، مگر اہلِ مدرسہ صحیح معنوں میں اس سے افادیت حاصل نہیں کرپا رہے، جس کی وجہ سے انتظامیہ نے ارادہ کیا ہے کہ اس کو فروخت کرکے رقم مدرسہ کی دیگر ضروریات میں صرف کی جائے۔ آیا اس طرح کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟جزاكم الله خيراً


جواب:

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں انتظامیہ کیلئے اجازت ہے کہ وہ مذکورہ زمین کو فروخت کرکے اس کی رقم کو مدرسہ کی دیگر ضروریات میں صرف کرسکتے ہیں۔

الفتاوى الهندية:

متولي المسجد إذا اشترى بمال المسجد حانوتا أو دارا ثم باعها جاز إذا كانت له ولاية الشراء، هذه المسألة بناء على مسألة أخرى إن متولي المسجد إذا اشترى من غلة المسجد دارا أو حانوتا فهذه الدار وهذا الحانوت هل تلتحق بالحوانيت الموقوفة على المسجد؟ ومعناه أنه هل تصير وقفا؟ اختلف المشايخ رحمهم الله تعالى قال الصدر الشهيد: المختار أنه لا تلتحق ولكن تصير مستغلا للمسجد

(كتاب الوقف، الباب الخامس في ولاية الوقف۔۔۔، 2/ 417 ط: دار الفكر)

هكذا في المحيط البرهاني في الفقه النعماني (كتاب الوقف، الفصل الحادي والعشرون: في المساجد، 6/ 216 ط: دار الكتب العلمية)

هكذا في التاتارخانية (كتاب الوقف، رقم الفصل21، رقم المسئلة11568، ط:رشيدية)

آئندہ کسی کاروبار میں ، زمین کی خریداری میں مدرسہ کی رقم خرچ نہ کی جائے۔
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 131202610062

فتویٰ آن لائن


#مدرسہ #وقف #مدرسہ_کی_زمین #اسلامی_فتاوی #مدرسہ_کے_اخراجات #فقہ_حنفی #وقفہ_کی_فروخت