مسافت اور شہر کی متصل آبادی کے اعتبار سے قصر نماز کا مسئلہ
سوال: زید کا تعلق ضلع کوہاٹ سے ہے اور ملازمت پشاور شہر میں ہے، زید جب کوہاٹ سے پشاور جاتا ہے تو جہاں سے پشاور شہر کی حدود شروع ہوتی ہے تو وہ زید کے علاقہ سے ۷۰کلومیٹر بنتا ہےاور جہاں پر پشاور شہر میں زید کی ملازمت ہے وہاں تک زید کے علاقہ سے ۸۰ کلومیٹر بنتا ہے، تو ایسی صورت میں زید صلاۃ قصر پڑھے گا یا پوری نماز پڑھے گا؟ اس مسئلہ میں بکر اور عمرو کا اختلاف ہے، بکر کا موقف یہ ہے کہ یہ مکمل نماز پڑھے گا، کیونکہ شہر مکان ِ واحد کے حکم میں ہے اور عمرو کا موقف یہ ہے کہ زید صلاۃِ قصر پڑھے گا، کیونکہ اعتبار اس جگہ کا ہوتا ہے جہاں پر آدمی کی رہائش یا ملازمت ہو۔ مفتی صاحب جمہور فقہاء احناٖفؒ کے نزدیک مفتی بہ قول کیا ہے؟رہنمائی فرمائیں۔
جواب:
ہماری رائے میں بکر کا موقف درست ہے ، کہ مسافتِ سفر کا اعتبار اپنے شہر کی متصل آبادی کے ختم ہونے کے بعد اور مطلوبہ شہر کی متصل آبادی شروع ہونے پر ختم ہوجائے گا، شہر کے اندر کی مسافت شمار نہ ہوگی، اس لئے کہ پورا شہر اور جہاں تک اس کی متصل آبادی ہےوہ بمنزلہ بقعہ واحدہ کے ہے۔ حلبی کبیر میں ہے:
من فارق بيوت موضع هو فيه من مصر أو قرية ناويا الذهاب الى موضع بينه و بين ذلك الموضع المسافة المذكورة صار مسافرا، فلا يصير مسافرا قبل أن يفارق عمران ما خرج منه من الجانب الذى خرج منه حتى لو كان ثمه محلة منفصلة عن المصر، وقد كانت متصلة به لا يصير مسافرا مالم يجاوزها ولو جاز العمران من جهة خروجه وكان بحذائه محلة من الجانب الاخر يصير مسافرا اذ المعتبر جانب خروجه وان كان هناك قرية متصلة بربض المصر فلا بد من مجاوزتها على الصحيح، وان كانت متصلة بفنائه دون ربضه لا تعتبر مجاوزتها على الصحيح ، اما فناء المصر فان كان بينه و بينه اقل من غلوة هو ليس بينهما مزرعة تعتبر مجاوزته أيضا و إلا فلا۔(حلبي كبير، فصل في صلاة المسافر، ص536-537 ط:سهيل اكيدمي، لاهور)
ولما في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:
وأما فناء المصر فظاهر كلام المصنف كالهداية أنه لا يشترط مجاوزته وقد فصل قاضي خان فقال : إن كان بين المصر وفنائه أقل من قدر غلوة ولم تكن بينهما مزرعة تعتبر مجاوزة الفناء أيضا وإن كانت بينهما مزرعة أو كانت المسافة بين المصر وفنائه قدر غلوة تعتبر مجاوزة عمران المصر وكذا إذا كان الانفصال بين القريتين أو بين قرية ومصر وإن كانت القرى متصلة بربض المصر فالمعتبر مجاوزة القرى هو الصحيح(كتاب الصلاة، 2/ 15، ط:دارالكتب العلمية)
ولما في البناية شرح الهداية:
وفي " جوامع الفقه ": إذا جاوز حيطان المصر قصر على ظاهر المذهب. وعن الحسن: فمن خرج مسافرا، وبقرب المصر قرية، فإن كان بينهما طول سكة لا يقصر ما لم يجاوز القرية، وإن كان أكثر قصر حين يخرج من العمران، وعلى هذا إذا كانت قرى متصلة ربض المصر لا يقصر ما لم يجاوزها، وإن كانت فراسخ، وعن بعضهم إذا جاوز الربض قصر.
وفي " المفيد "، و" التحفة ": المقيم إذا نوى السفر ومشى أو ركب لا يصير مسافرا ما لم يخرج عن عمران المصر؛ لأن بنية العمل لا يصير عاملا ما لم يعمل، كالصائم إذا نوى الفطر لا يصير مفطرا. وفي " المحيط ": والصحيح أنه يصير مفطرا، ويعتبر مجاوزة عمران المصر، إلا إذا كان ثم قرية أو قرى متصلة بأرض المصر، فإنه حينئذ يعتبر مجاوزة القرى، وذكر الإمام التمرتاشي، والأشبه أن يكون الانفصال عن المصر قدر غلوة فحينئذ يقصر.
(كتاب الصلاة، 3/ 15ط: دارالكتب العلمية)
ولما في درر الحكام شرح غرر الأحكام:
(هو من جاوز بيوت مقامه) أي موضع إقامته أعم من البلد والقرية فإن الخارج من قريته للسفر مسافر أيضا فهذه العبارة أحسن من قولهم بيوت بلده جمع البيوت إذ لو بقي أمامه بيت لا يكون مسافرا
وقال الشرنبلاليؒ: وكذا إذا كان هذا الانفصال بين قريتين أو بين قرية ومصر، وإن كانت القرى متصلة بربض المصر فالمعتبر مجاوزة القرى هو الصحيح، وإن كانت القرية متصلة بفناء المصر لا بربض المصر يعتبر مجاوزة الفناء ولا يعتبر مجاوزة القرية اهـ
(درر الحكام مع حاشية الشرنبلالي، كتاب الصلاة، باب المسافر، 1/ 132، ط: دار إحياء الكتب العربية)
مذكوره عبارت سے جس طرح اپنے شہر کی متصل آبادی سے نکلنے کے بعد مسافر بننا معلوم ہوتا ہے، اسی طرح یہی ضابطہ مطلوبہ جگہ کیلئے بھی جاری ہوگا، یعنی جیسے اپنے شہر کی متصل آبادی سفرمیں شمار نہیں ایسے ہی مطلوبہ شہر کی متصل آبادی شروع ہوجانے کے بعد سفر ختم ہوجائے گا، ورنہ ما بہ الفرق کو فقہی جزئیات سے ثابت کیا جائے۔
باقی صورتِ مسئولہ میں زید پشاور اور راستہ میں نماز پوری پڑھے گا، قصر نہ کرے گا، کیونکہ زید کا سفر شرعی سفر کی مسافت (جو کہ ۸۰.۸۷ کلومیٹر ہےكما حققناه في خير الفتاوى) سے کم ہے۔ لہذا راستہ اور منزل پر مکمل نماز ہی پڑھے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 131202610056
فتویٰ آن لائن