پلاٹ کی ملکیت اور شرعی ورثاء میں تقسیم
سوال: اگر جنت بی بی نے اپنے پلاٹ کو اپنے بیٹے رشید احمد کے نام کیا لیکن قبضہ نہ دیا، تو اس پلاٹ کی ملکیت کس کے پاس ہوگی؟ اور وفات کے بعد اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟
جواب:
صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ پلاٹ جنت بی بی کی ملکیت شمار ہوکر تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوگا؛ کیونکہ جنت بی بی نے مذکورہ پلاٹ رشید احمد(بیٹے) کو قبضہ دیے بغیر محض نام کیا، جس سے ھبہ(گفٹ) مکمل نہ ہوا اور جنت بی بی کی ملکیت میں بدستور برقرار رہا۔
لما في الدر المختار:
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (الدر مع الرد، كتاب الهبة، 5/ 690 ط: دارالفكر)
هكذا في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (كتاب الهبة، 3/ 491 ط: دارالكتب العمية)
ولما في رد المحتار:
لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة (الدر مع الرد، كتاب الهبة، 5/ 689 ط: دارالفكر)
نیز یہ گفٹ مرض الوفات میں وارث کو کیا گیا ہے، اور مرض الوفات میں وارث کو کیا گیا گفٹ وصیت ہوتا ہے اور وارث کے حق میں وصیت غیر معتبر ہونے کی وجہ سے مذکورہ پلاٹ کا گفٹ درست نہ ہوا۔
لما في مجلة الأحكام العدلية:
(المادة 879) إذا وهب أحد في مرض موته شيئا لأحد ورثته وبعد وفاته لم تجز الورثة الباقون لا تصح تلك الهبة
(الكتاب السابع: في الهبة، الباب الثالث: في بيان أحكام الهبة، الفصل الثاني: في هبة المريض، ص: 168 ط: نور محمد)
الحاصل مذکورہ پلاٹ جنت بی بی کی ملکیت ہے اور اب ان کے انتقال کے بعد ان کے
شرعی ورثاء (دو بیٹے اور ایک بیٹی) میں بعد ادائے قرض و وصیت جائزہ پانچ حصے ہوکر ہر بیٹے کو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 217202610070
فتویٰ آن لائن