غاصب قابضین کی شرعی ذمہ داریاں اور زمین کی فروخت کا شرعی حکم
سوال: اگر کسی نے دوسرے سے زمین لی اور اس پر فصل کاشت کرتے رہے، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ زمین بیچنے والے کی نہیں تھی بلکہ اس کا مالک کوئی اور ہے۔ اور وہ مالک ان سے مطالبہ کرنے لگا کہ یہ زمین میری ہے اور مجھے واپس کر دو۔ اب خریدنے والے واپس دینے پر تیار نہیں ہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ہم مالک سے کم قیمت پر زمین خرید لیں پوچھنا یہ ہے کہ مالک کے واپسی کے مطالبے کے باوجود زمین واپس نہ کی جائے تو اس کے شرعی اور قانونی احکام کیا ہیں؟ اور اگر مالک انہی کو زمین کو فروخت کرنا چاہے تو کیا وہ جائز ہے؟
جواب:
صورتِ مسئولہ میں اگر قابضین کو اس بات كاعلم پہلے سے تھا کہ ان کے قبضہ میں جو زمین ہے، اسکا مالک فلاں ہے اور اس کے مطالبہ کرنے کے باوجود انھوں نے زمین ان کو واپس نہیں کی تو یہ غاصب بن گئےاور ان کے ذمہ اس مطالبے کے بعد تمام سالوں کی اجرت مثل اور توبہ کرنالازم ہے، جبکہ مالک اپنی زمین کو ٹھیکہ پر دیتا تھا۔ ردالمحتار ميں ہے:
أن منافع الغصب غير مضمونة إلا أن يكون وقفا أو مال يتيم أو معدا للاستغلال
(الرد مع الدر، كتاب الغصب، 6/ 186، ط:دارالفكر)
اور اگراب علم ہوا ہے کہ ان کے قبضہ میں جو زمین ہے اس کا مالک دوسرا شخص ہےتو قابضین پر لازم ہے کہ فی الفور اپنا قبضہ ختم کرکے مالکین کو زمین واپس کریں، اور اب تک جو زمین پر ناجائز قبضہ رکھا اورجو پیداوار اٹهاتے رہے ہیں، اسکی معافی تلافی کرالیں ورنہ وہ غاصب شمار ہونگے، اور غاصب کے بارے میں حدیث شریف میں بڑی سخت وعید آئی ہے کہ اس کو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق پہنایاجائے گا۔
صحيح مسلم میں ہے:
«مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ»
(صحيح مسلم، كتاب المساقاة، باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها، رقم الحدیث1610، 3/ 1231 المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي)
مذکورہ صورت میں اگر مالک کا ارادہ اس زمین کو فروخت کرنے کا ہے تو وہ شرعاً اس کا مجاز ہے۔ عدالت میں بیان دینے کے بعد قابضین اس زمین کے مالک تصور ہوں گے، بشرطیکہ فروخت کرنے کا سبب قبضہ نہ ملنا نہ ہواور قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے ریٹ میں کمی بھی واقع نہ ہو، الحاصل زمین پوری قیمت پر خریدی جائے
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 217202610072
فتویٰ آن لائن