info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





اسلام میں قرض کا جواز اور واپسی کے اصول


سوال: کیا اسلام میں قرض دینا جائز ہے؟ اور قرض کی واپسی کا طریقہ کیا ہے؟ کیا اصل رقم کے بدلے زیادتی لے سکتے ہیں؟


جواب:

اسلام میں قرض کے لین دین کی گنجائش ہے البتہ اس میں ضروری ہے کہ جو رقم قرض میں دی جائے اتنی ہی واپس لی جائے زیادتی نہ کی جائے اگر زیادتی کی شرط لگائی تو یہ سود ہوگا جو حرام اور ناجائز ہے۔

چنانچہ تحفة الفقهاء (3/ 35) میں ہے:

القرض جائز

فيما له مثل من جنسه لأنه يجب عليه رد المثل

كتاب الصرف، دار الكتب العلمية، بيروت

 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 161)

فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة.

كتاب البيوع، فصل في القرض، دار الكتب العلمية، بيروت


فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 217202610075

فتویٰ آن لائن


اسلام میں قرض کا جواز اور واپسی کے اصول #اسلامی_فقہ #قرض #قرض_حسن #تحفة_الفقہاء #الدر_المختار #رد_المحتار