شوہر حرمت مصارت کے مسئلے میں بیوی کی تصدیق کر دے یا اس کا ظن غالب ہو تو حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام کہ زید کے باپ نے ادھی رات کو اس کی بیوی فاطمہ کے پاس ا کر اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا اور سینے پر ہاتھ لگایا۔ اب زید کا باپ انکاری ہے جبکہ زید گواہوں کے سامنے یہ اقرار کر چکا ہے کہ میرے باپ کا قصور ہے لیکن اب وہ اس کا انکار کرتا ہے جبکہ فاطمہ کے پاس کوئی شرعی گواہ نہیں ہیں۔ سوالات: کیا اس اقرار سے حرمتِ مصاہرت شرعاً ثابت ہو گئی؟ کیا زید کو دوبارہ فاطمہ کے ساتھ نکاح کرنے کا حق ہے؟ اگر زید فاطمہ کو چھوڑنے/آزاد کرنے کا لفظ نہ کہے تو عدالت میں کیا طریقہ اختیار ہوگا؟ فاطمہ دوسری جگہ نکاح کرنے کے لیے کب بااختیار ہوگی؟
جواب:
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں جب زید گواہوں کے سامنے اقرار کرچکا ہے کہ "میرے والد کا قصور ہے، اور وہ اسی طرح کی حرکتیں کرتا ہے" تو اس اقرار سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگئی ہے؛ کیونکہ جب شوہر عورت کی تصدیق کرے یااس کو واقعہ کے سچے ہونے کا ظنِ غالب ہوجائےتوحرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جب زید نےدوسروں کے سامنےیہ کہا کہ"میرے والد کا قصور ہے، اور وہ اسی طرح کی حرکتیں کرتا ہے"تو اس سے معلوم ہوا کہ اسے بیوی کے سچا ہونے کا یقین یا ظنِ غالب ہوچکا تھا، اسی وجہ سے اس نے شک کے الفاظ سے تذکرہ نہیں کیا۔
لما في البحر الرائق:
وثبوت الحرمة بلمسها مشروط بأن يصدقها۔۔۔ أو يغلب على ظنه صدقها
(البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب النكاح، فصل في المحرمات في النكاح، 3/107 ط: دار الكتاب الإسلامي)
هكذا في رد المحتار(الدر مع الرد، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، 3/ 33 ط: دار الفكر)
جب زید کا اقرار شہادتِ شرعیہ سے ثابت ہے تو اب اس کا رجوع شرعاً مفید نہ ہوگا کیونکہ حرمتِ مصاہرت کے مسئلہ میں اپنے اقرار پر برقرار رہنا یا اصرار کرنا شرعاً شرط نہیں۔
لما في خلاصة الفتاوي:
قيل: لرجل ما فعلت بأم امرأتك؟ قال: جامعتها ثبتت الحرمة ولا يصدق أنه كذب وإن كانوا هازلين والإصرار ليس بشرط في الإقرار لحرمة المصاهرة
(كتاب النكاح، الفصل الثالث في حرمة المصاهرة، 2/10 ط: رشيدية)
هكذا في البحر الرائق شرح كنز الدقائق (البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب النكاح، فصل في المحرمات في النكاح، 3/ 109 ط: دار الكتاب الإسلامي)
هكذا في النهر الفائق شرح كنز الدقائق (كتاب النكاح، فصل في المحرمات، 2/191 ط: دار الكتب العلمية)
الحاصل مذکورہ جزئیات سے معلوم ہوا کہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہوچکی ہے، فاطمہ زید پر ہمیشہ کیلئے حرام ہوچکی ہے، اب وہ دوبارہ کبھی زید کے ساتھ آباد نہیں ہوسکتی، اس لئے زید پر لازم ہے کہ وہ فاطمہ کو "میں نے تجھے چھوڑ دیا/آزاد کردیا "کہے،پھر عدت گزار کر فاطمہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بااختیار ہوگی۔
اور اگر زید یہ نہ کہے تو عدالت سے طلاق کی ڈگری لے لی جائے، اس کے بعد فاطمہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں بااختیار ہوگی۔ (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب النكاح، فصل في المحرمات في النكاح، 3/ 37 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 218202610082
فتویٰ آن لائن