info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





غیر مقدور التسلیم مقبوضہ زمین کی فروخت کرنا اور قبضہ کے بعد ثمن ادا کرنا


سوال: اگر بائع نے ایسی زمین فروخت کی ہے جس پر پہلے کسی غیر نے قبضہ کر رکھا تھا اور مشتری نے عدالت میں کیس کر کے قبضہ لیا، تو بیع اور ثمن کی ادائیگی کا شرعی حکم کیا ہے؟ آیا مشتری نے کیس پر جو خرچہ کیا ہے وہ ثمن سے کاٹ سکتا ہے؟ یہ زمین چھ لاکھ روپے کی خریدی تھی۔


جواب:

بر تقدیر صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بائع کا اپنی زمین (جس پر غیر نے قبضہ کرکے رکھا ہے)کو فروخت کرنا بیع فاسد تھا ؛ کیونکہ مبیع غیر مقدور التسلیم ہے، تاہم اب بائع نے مشتری کو قبضہ دے دیا ہے تو بیع تام ہوچکی ہےاور مشتری کے ذمہ چھ لاکھ ثمن ادا کرنالازم ہوگیا ہے، البتہ مشتری نے زمین کا قبضہ حاصل کرنے کیلئے کیس کیا تھا کہ کیس کئے بغیر قبضہ حاصل نہ ہوپا رہا تھا، اس لئے کیس کی پیروی میں جس قدر خرچہ آیا، صرف اتنی رقم ثمن سے منھا کرکے چھ لاکھ میں سے بقیہ رقم مشتری کے ذمہ بائع کو ادا کرنا لازم ہے۔

لما في الدر المختار:

وكذا) يضمن (لو سعى بغير حق عند محمد زجرا له) أي للساعي (وبه يفتى)

(الدر مع الرد، كتاب الغصب، مطلب في ضمان الساعي، 6/ 213، ط: دارالفكر)


فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 218202610095

فتویٰ آن لائن


جائز اور ناجائز ملازمت #زمین_کی_فروخت #قبضہ #بیع #ثمن #شرعی_حکم #الدر_المختار #غصب