info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





قبرستان کو شارع عام بنانے کا شرعی حکم


سوال: قبرستان کو گزر گاہ بنانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟


جواب:

قبرستان کو عام راستہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ راستہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے کہ قبرستان عبرت کی جگہ ہے، جب اس کو عام گزرگاہ بنا دیا جائے گاتو یہ جائے عبرت نہیں رہے گا ، البتہ اگر ضرورت ہوتو قبرستان سے گزرا جاسکتا ہے، لیکن قبروں کا لحاظ ضرور رکھے کہ ان پر نہ چلے؛ کیونکہ آپﷺ نے قبروں پر چلنے سے منع کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

لا تجلسوا علی القبور ۔۔۔ الحدیث(مشکوٰۃ شریف ص ۱۴۸) ترجمہ: قبروں پر مت بیٹھو۔۔۔

بلکہ فقہاء کرامؒ نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر قبرستان کے راستہ کو دیکھ کر دل میں یہ خیال جم جائے کہ لوگوں نے قبروں کو مسمار کرکے اس کو بنایا ہے تو اس راستہ پر نہ چلے۔

لما في الدر المختار

يكره المشي في طريق ظن أنه محدث حتى إذا لم يصل إلى قبره إلا بوطء قبر تركه

(الدر مع الرد، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 2/ 245 ط:دارالفکر)

ولما في فتاوى قاضي خان:

ويكره القعود على القبر ولو وجد طريقاً في المقبرة وهو يظن أنه طريق أحدثوا لا يمشي في ذلك وإن لم يقع ذلك في ضميره لا بأس بأن يمشي فيه

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 1/ 172 ط:رشيديه)


فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 220202610103

فتویٰ آن لائن


قبرستان کو عام راہ گزر بنانے کا شرعی حکم #قبرستان #حرمت_قبور #راہ_گزر #آداب_قبور #فقہ_الجنائز #اسلامی_احکام #احترام_مسلمان