زکوۃ کی ادائیگی اور بدعت سے بچاؤ
سوال: ۱۔ ميرا اپنی بہن کو زکوۃ دینا جائز ہے یا نہیں،جبکہ وہ سید اور مالدار نہیں ہے ؟' ۲۔ ہمارے علاقہ میں بعض علماء نے کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے یہ طریقہ بتا تے ہیں کہ وہ قرآن پاک کو کپڑے میں لپیٹ کرلوگوں کو خواہ حیض ونفاس والی عورت بھی ہو، کو اس کے نیچے سے گزارتے ہیں اور ان سے اس چادر میں پیسے مثلاً پانچ سو روپے ڈالنے کا کہتے ہیں، نیز دعوی کرتے ہیں کہ یہ طریقہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے ، پوچھنا یہ ہے کہ یہ طریقہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب:
۱۔ بہن اگر مالدار نہیں ہے تو اس کو زکوۃ دینا شرعاً درست ہے، بلکہ اس کو زکوۃ دینے کی صورت میں دہرا ثواب ملے گا، ایک زکوۃ کی ادائیگی کا، دوسرا صلہ رحمی کا، نیز اس کو زکوۃ کی رقم ھبہ (گفٹ) وغیرہ کے الفاظ سے بھی دی جاسکتی ہے، تا کہ اس کی دل آزاری نہ ہو۔
لما في البحر الرائق:
وقيد بأصله وفرعه؛ لأن من سواهم من القرابة يجوز الدفع لهم، وهو أولى لما فيه من الصلة مع الصدقة كالإخوة والأخوات
(البحر مع منحة الخالق و تكملة الطوري، كتاب الزكوة، باب مصرف الزكوة، 2/ 262 ط: دار الكتاب الإسلامي)
قال الشبيؒ في حاشيته على تبيين الحقائق:
قال الكمال - رحمه الله - وجميع القرابات غير الأولاد يجوز الدفع إليهم وهو أولى لما فيه من الصلة مع الصدقة كالإخوة والأخوات
(التبيين مع حاشية الشلبي، كتاب الزكوة، باب المصرف، 1/ 301 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
۲۔ مذکورہ طریقہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے، اس لئے اس کو چھوڑنا لازم ہے۔
لما في صحيح البخاري:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد»
(كتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا على صلح جور، 3/ 184 ط: دار طوق النجاة)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 223202610121
فتویٰ آن لائن