میت کے کھانے اور ایصالِ ثواب کی دعوت کے شرعی احکام
سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں: ۱۔ اقرباء کی طرف سے تیار کردہ کھانے کو اہلِ میت کے علاوہ دوسرے آنے والےلوگوں کو کھلانا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ ۲۔ اہلِ میت کی طرف سے تیسرے یا چوتھے دن ، ہر جمعرات، چالیس دن اور سال پورے ہونے پر خیرات کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب:
۱۔ میت کے اقرباء کی طرف سے پہلے دن تیار کئے جانے والے کھانے سے اگر دور سے تشریف لانے والے مہمانوں کو کھلایا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اگر ایک ہی شہر کے مہمان ہیں تو ان کیلئے دعوت کا اہتمام کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے؛ کیونکہ لوگ اس کو ضروری سمجھنے لگے ہیں حتی کہ بعض تو گھر سےکھانا اسی لئے کھا کر نہیں آتے کہ اہلِ میت کے ہاں کھائیں گے۔
لما في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:
وإن دعت الحاجة إلى ذلك جاز، فإنه ربما جاءهم من يحضر ميتهم من القرى والأماكن البعيدة ويبيت عندهم ولا يمكنهم إلا أن يضيفوه.
(القسم الأول: العبادات، الباب الثاني: الصلاة، الفصل العاشر: أنواع الصلاة، المبحث الثامن ـ صلاة الجنازة، المطلب الثالث ـ التعزية، القراءة على الميت وإهداء الثواب له، 2/ 1578 ط: دارالفکر)
۲۔ مروجہ تیجہ ، چالیسواں اور سالانہ دعوت کا اہتمام کرنا بدعت ہے؛ اس لئے کہ شریعت نے میت کے ایصالِ ثواب کیلئے ان دنوں میں دعوت کا اہتمام کرنے کا حکم نہیں دیا، جبکہ لوگ اس کو لازم سمجھنے لگیں اور مذکورہ ایام میں دعوت کا اہتمام نہ کرنے والے کو ملامت بھی کرتے ہیں ، جو کہ حدیث ِ مبارکہ "من أحدث في امرنا ما ليس منه فهو رد" (متفق عليه) کی رو سے ممنوع اور واجب الترک ہے۔
لما في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:
كل مباح يؤدي إلى زعم الجهال سنية أمر أو وجوبه فهو مكروه
(فوائد شتى من الحظر والإباحة وغير ذلك، 2/ 333 ط: دارالمعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 223202610123
فتویٰ آن لائن