info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





نماز تراویح اور وتر کی جماعت میں کم رکعت پڑھانے کا شرعی حکم


سوال: ۱۔ امام نماز تراویح کی جماعت آٹھ(۸ ) رکعت کرواتا ہے ، اور انہی آٹھ رکعت میں ہی پورا ایک پارہ پڑھتا ہے ، اور نماز ختم کردیتا ہے، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ ۲۔ مسجد گھر کے نزدیک ہے اور نمازی بھی نزدیک سے آتے ہیں اور امام نمازِ وتر کی جماعت ایک رکعت پڑھتا ہے، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟


جواب:

واضح رہے کہ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں تراویح کے بیس رکعت ہونے پر اجماع ہوا ہے، اگر بیس رکعت ترایح مسنون نہ ہوتیں تو کوئی صحابی ضرور نکیر کرتا ، حالانکہ کسی نے نکیر نہیں کی۔ اسی لئےچاروں ائمہ کرام ؒ میں سے کوئی بھی بیس رکعت سے کم تراویح کا قائل نہیں ہے۔

نیز حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے آپﷺ کی تراویح کی رکعات بیس منقول ہیں، گو یہ حدیث ضعیف ہے لیکن محدثین کرامؒ کے ہاں مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب کسی متن ِ حدیث کو اجماع یا عملِ متوارث(نسل در نسل منقول عمل) لاحق ہو جائے تو وہ حدیث قابلِ حجت ہوتی ہے اور تراویح کے بیس رکعت ہونے پر اجماع بھی ہے اور عملِ متوارث بھی۔

۱۔ لہذا مذکورہ امام کو صرف آٹھ رکعت تراویح پڑھنا اور بقیہ تراویح نہ پڑھنادرست نہیں ہے۔

مصنف ابن أبي شيبة _ ط دار القبلة _ ت عوامة (5/ 225)

حدثنا يزيد بن هارون , قال : أخبرنا إبراهيم بن عثمان ، عن الحكم ، عن مقسم ، عن ابن عباس ؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي في رمضان عشرين ركعة والوتر

بدائع الصنائع میں ہے:

وأما قدرها فعشرون ركعة في عشر تسليمات في خمس ترويحات كل تسليمتين ترويحة وهذا قول عامة العلماء وقال مالك في قول ستة وثلاثون ركعة وفي قول ستة وعشرون ركعة والصحيح قول العامة لما روي أن عمر رضي الله عنه جمع أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في شهر رمضان على أبي بن كعب فصلى بهم في كل ليلة عشرين ركعة ولم ينكر عليه أحد فيكون إجماعا منهم على ذلك

(كتاب الصلاة، 1/ 288ط: دار الكتاب العربي)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى أن التراويح سنة لا يجوز تركها لأن النبي صلى الله عليه وسلم أقامها ثم بين العذر في ترك المواظبة على أدائها بالجماعة في المسجد وهو خشية أن تكتب علينا ثم واظب عليها الخلفاء الراشدون رضي الله عنهم وقد قال النبي صلى الله عليه وسلم: "عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين من بعدي". وأن عمر رضي الله عنه صلاها بالجماعة مع أجلاء الصحابة فرضي به علي رضي الله عنه حتى دعا له بالخير بعد موته كما ورد وأمر به في عهده

(کتاب الصلاة، 2/ 258 ط: دار الفكر، بیروت)

۲۔ فقہاء احنافؒ کی تحقیق کے مطابق وتر تین رکعات ہیں، جس کے چند دلائل درج ذیل ہیں:

الف) حدیث میں ایک رکعت نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ نهى رسول الله ﷺ عن البتيراء

ب) وہ احادیث مبارکہ جن میں آپﷺ کا وتر میں مسنون قرات تین سورتیں منقول ہیں۔

لہٰذا مذکورہ امام کا صرف ایک رکعت وتر کی جماعت کرانا درست نہیں ہے، اور کسی حنفی کا ایسے امام کی اقتداء کرنا درست نہیں بلکہ وہ اپنی نماز الگ ادا کرے۔

الدر المختار میں ہے:

(وصح الاقتداء فيه)۔۔۔ (بشافعي) مثلا (لم يفصله بسلام) لا إن فصله (على الأصح) فيهما

و في رد المحتار : (قول على الأصح فيهما) أي في جواز أصل الاقتداء فيه بشافعي وفي اشتراط عدم فصله

(كتاب الصلاة، 2/7، 8 ط: سعید)


فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 223202610118

فتویٰ آن لائن


نماز تراویح اور وتر کی جماعت میں کم رکعت پڑھانے کا شرعی حکم #نماز_تراویح #نماز_وتر #احکام_نماز #فقہ_اسلامی #رمضان #اجماع_صحابہ #سنت_نبوی #حضرت_ابن_عباس #بیس_رکعت #جماعت