info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





والد کی خریدی پلاٹ کا قانونی و شرعی فیصلہ: کیا یہ ورثاء کی ملکیت ہے یا ترکہ میں شمار ہوگا؟


سوال: ہمارے والد نے ایک پلاٹ قطعہ سکنی اراضی پانچ مرلہ خریدا اور ہم دو بہنوں کو کہا کہ یہ پلاٹ میں نے تم دونوں کیلئےخریدا ہے اورمیں بہت جلد اسے تمہارے نام کرادوں گا، ۔ پھروالد صاحب کا انتقال ہوگیا۔اسی طرح والد صاحب ہمارے بھائیوں کو بھی مختلف املاک دے چکے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ پلاٹ والد صاحب کے ترکہ میں شمار ہوگا یا ہماری ملکیت؟


جواب:

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں مذکورہ پلاٹ غلام قادر کے ترکہ میں شمار ہوگا اور تمام ورثاء میں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا، اور مذکورہ دو بیٹیوں کی ملکیت نہیں ہے؛ کیونکہ والدنے ملکیت کی حد بندی نہیں کی بلکہ مشترکہ طور پر مذکورہ اراضی ھبہ (گفٹ) کی، حالانکہ ھبہ کے مکمل ہونے کیلئے قابلِ تقسیم اراضی میں ملکیت کی حد بندی کرکے دینا ضروری ہوتا ہے، بصورت دیگر ھبہ (گفٹ) صحیح ہوتا ۔

لما في تبيين الحقائق:

وقوله في محوز مقسوم ومشاع لا يقسم لا فيما يقسم أي تجوز الهبة في محوز مقسوم وفي مشاع لا يقسم ولا تجوز في مشاع يقسم

(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق مع حاشية الشلبي ، كتاب الهبة، 5/ 93 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

عمدة الرعاية :

(لا فيما يُقْسَم): أي لا تصحُّ الهبةُ في مشاعٍ لو قُسِمَ يبقى منفعتُه عندنا

(عمدة الرعاية بتحشية شرح الوقاية، كتاب الهبة، 9/ 16 المحقق: الدكتور صلاح محمد أبو الحاج

ط: مركز العلماء العالمي للدراسات)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 223202610131

فتویٰ آن لائن


والد کی خریدی پلاٹ کا قانونی و شرعی فیصلہ: کیا یہ ورثاء کی ملکیت ہے یا ترکہ میں شمار ہوگا؟ #وراثت #پلاٹ_کی_ملکیت #ترکہ #ورثاء #ہبہ #اسلامی_فقہ #فقہ_المعاملات #حق_وراثت #شرعی_حکم