فجر و عصر کی نماز کے بعد اجتماعی طور پر درود شریف اور کلمہ طیبہ پڑھنے کا شرعی حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں فجر اور عصر کی نماز کے بعد اجتماعی شکل میں گھٹلیوں پرکبھی درود شریف اور کبھی کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں، ہم اس کو لازم نہیں سمجھتے اور نہ ہی کسی نہ بیٹھنے والے کو تنقید کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو بیٹھنے پر اصرار کرتے ہیں۔ کیا ہمارا اس طرح اجتماعی شکل میں دروود شریف یا کلمہ طیبہ پڑھنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب:
اگر واقعۃً مذوکورہ باتوں کو لحاظ رکھتے ہوئے یہ عمل کیا جاتا ہے تو شرعاً اس کی اجازت ہے ، لیکن وقتاً فوقتاً مجلس میں یہ اعلان بھی ہوجائے تو بہت بہتر ہے کہ جس کو بھی جانا ہے ، وہ جاسکتا ہے۔
تاہم اگر کسی دینی مدرسہ میں بطور وظیفہ طلبہ سے اس کا اہتمام کرایا جاتا ہو تو انتظامی مصلحت کی بنا پر طلبہ کو پابند کرنے کی بھی گنجائش ہے۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 223202610134
فتویٰ آن لائن
فجر و عصر کی نماز کے بعد اجتماعی طور پر درود شریف اور کلمہ طیبہ پڑھنے کا شرعی حکم #اجتماعی_ذکر #درود_شریف #کلمہ_طیبہ #فقہ_اسلامی #سنت_نبوی #اذکار #شرعی_اجازت