جھوٹا مقدمہ کرنے پر مقدمہ پیروی کے اخراجات کا مطالبہ
سوال: میری دکان میں کرایہ دار مسمی محمد ریاض نے مجھ سے میری دکان اقساط پر خریدی، لیکن وقتِ مقرر پر پیسے نہ دئیے، پھر ۳۹۲ بوری کھل کی دینا طے ہوا، لیکن ادا نہ کی، پھر معاہدہِ خرید کو ختم کرکے دوبارہ معاہدہ کرایہ نامہ کیا، پھر اس معاہدے کے چار دن بعد کیس کر دیا کہ محبوب احمد نے مجھے دکان فروخت کی ،پھر رجسٹری کرانے لے گیا، میں ان پڑھ تھاتو مجھ سے کرایہ نامہ کے معاہدہ پر دستخط کروائے، تو یوں اس نے مجھ پر جھوٹا مقدمہ سول کورٹ میں کیا، پھر ۲۰۰۵ میں اس کا فیصلہ آیا، پھر سیشن کورٹ میں مقدمہ کیا، اس کا فیصلہ میرے حق میں آیا، پھر ہائی کورٹ میں مقدمہ چلایا، پھر اس سے سیشن کورٹ میں مقدمہ بھجوایا، پھر اس سے دوبارہ فیصلہ ہمارے حق میں آیا، پھر ہائی کورٹ میں مقدمہ چلا، اب ہمارے حق میں زبانی فیصلہ آچکا ہے۔ ۔۔ اس دوران میرا تقریباً دس لاکھ خرچ ہوا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ میں ریاض حسین سے کچھ رقم کا مطالبہ کرسکتا ہوں یا نہیں؟
جواب:
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً محمد ریاض نے محبوب احمد پر جھوٹا مقدمہ کیا تھا، جس کی پیروی کیلئے محبوب احمد کو مجبوراً وکیل رکھنا پڑا تو ایسی صورت میں جس قدر مقدمات کی پیروی پر خرچہ آیا، وہ محمد ریاض کے ذمہ شرعاً لازم ہے، اور محبوب احمدشرعاً اس رقم کا محمد ریاض سے مطالبہ کرسکتا ہے۔
لما في الدر المختار:
وكذا) يضمن (لو سعى بغير حق عند محمد زجرا له) أي للساعي (وبه يفتى)
(الدر مع الرد، كتاب الغصب، مطلب في ضمان الساعي، 6/ 213، ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 223202610136
فتویٰ آن لائن