ہوٹل میں سرمایہ کاری اور شراکت: نفع و نقصان کا شرعی طریقہ
سوال: ایک آدمی کا ملتان میں ایک ہوٹل ہے، اللہ کے فضل سے بہت اچھا چل رہا ہے، اب ایک دوسرا آدمی(زید) جس کے پاس تقریباً ایک لاکھ روپے ہیں، وہ اس ہوٹل میں شامل کرکے بغرضِ تجارت ساتھ کام کرنا چاہتاہے۔ تو یہاں اسکے جواز کی کیا صورت اختیار کی جائے؟
جواب:
صورتِ مسئولہ میں زید مذکورہ ہوٹل میں بطور شراکت کے شامل ہوسکتا ہے، بایں طور کہ مکمل ہوٹل( بمع ساز و سامان ، زمین و عمارت)کا باقاعدہ حساب کتاب کرکےقیمت لگوا کر مالکِ ہوٹل کا سرمایہ معلوم کرلیا جائے، پھر زید اپنا سرمایہ مذکورہ ہوٹل میں شامل کرلے بایں طور کہ اس سے ہوٹل کا سامان وغیرہ خرید لیا جائے۔
مثلاً مکمل ہوٹل کی مالیت ۹ لاکھ لگی، تو اب مالکِ ہوٹل کا سرمایہ ۹ لاکھ روپے ہوااور نئے شریک(زید) کا سرمایہ ایک لاکھ روپے ہوا، اب نفع فیصد کے لحاظ سے طے کرلیا جائے(مزید تفصیل آگے آرہی ہے)، پھر ماہانہ یا سالانہ یا مقررہ میعاد پر طے شدہ فیصد کے لحاظ سے نفع تقسیم کرلیا جائے۔نیز نقصان ہونے کی صورت میں ہر فریق اپنے سرمائے کے بقدر نقصان برداشت کرے گا۔
مذکورہ معاملہ شرکت بالعروض ہے، جس کے بارے میں مجدد الملت حکیم الامت حضرت تھانویؒ فرماتےہیں:
سو بعض ائمہ کے نزدیک یہ صورت جائز ہے۔ فیجوز الشرکۃ والمضاربۃ بالعروض بجعل قیمتھا وقت العقد رأس المال عند أحمد في روایۃ، وھو قول مالک وابن أبی لیلی کما ذکرہ الموفق في المغني۔ (ص ۱۲۵، ج۵ )پس ابتلائے عام کی وجہ سے اس مسئلہ میں دیگر ائمہ کے قول پر فتویٰ دے کر شرکت مذکورہ کے جواز کا فتویٰ دیا جاتا ہے۔ (امداد الفتاوی، کتاب ُ الشرکۃ ، ۳/۴۹۵ مکتبہ :دارالعلوم کراچی)
البتہ یہ بات قابلِ لحاظ رہے کہ زید اگر ہوٹل میں کوئی کام نہ کرے بلکہ صرف نفع و نقصان میں شریک ہوتو اس کا نفع کے سرمایہ کے تناسب سے برابر یا کم مقرر کیا جائے؛ اس لئے کہ غیرِ عامل شریک کیلئےسرمائے کے تناسب سےزیادہ نفع رکھنا جائز نہیں ہے۔
لما في المبسوط للسرخسي:
فإن استحقاق الربح باعتبار العمل والمال، أو العمل، أو الضمان
(كتاب الشركة ، استحقاق الربح في طريق الشركة، 11/ 159 ط: دارالمعرفة)
ولما في الموسوعة الفقهية الكويتية:
لا يستحق الربح إلا بالمال أو العمل أو الضمان۔۔۔ فإذا لم يوجد أحد هذه الأسباب الثلاثة، التي لا يستحق الربح إلا بواحد منها، لم يكن ثم سبيل إليه
(الشركة، أحكام الشركة، استحقاق الربح، 26/ 60 ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية – الكويت)
ولما في الدر المختار:
وفي الدرر: لا يستحق الربح إلا بإحدى ثلاث: بمال، أو عمل، أو تقبل
قال ابن العابدينؒ: (قوله: بمال) كما في شركة الأموال وفي المضاربة في حق رب المال (قوله: أو عمل) كالمضارب في المضاربة (قوله: أو تقبل) عبارة الدرر أو ضمان، وكذا في البحر وغيره۔۔۔
(الدر مع الرد،كتاب الشركة ، مطلب شركة الوجوه، 4/ 324 ط:دارالفكر)
البتہ اگر وہ ہوٹل میں کوئی باقاعدہ کام کرے تو پھر اس کیلئے سرمائے کے تناسب سے زیادہ نفع مقرر کرنا بھی درست ہے۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 223202610127
فتویٰ آن لائن