info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





مرحوم کی وراثت کی تقسیم — بیوہ، بیٹے اور بیٹیوں کے شرعی حصص


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یٰسین وفات پاگئے ہیں۔ ورثاء میں 1 بیوہ، 6بیٹے، 5بیٹیاں ہیں۔ مرحوم کے والدین کا انتقال زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ ترکہ میں 70 لاکھ روپے ہیں۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتادیں۔


جواب:

مسئلہ8/136 مضروب17 ترکہ70،00،000 یٰسین (متوفی)

میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بیوہ---- بیٹی---- بیٹی ----بیٹی---- بیٹی---- بیٹی---- بیٹا---- بیٹا---- بیٹا---- بیٹا---- بیٹا---- بیٹا

1 7

17---- 7---- 7---- 7---- 7---- 7 ----14---- 14---- 14---- 14---- 14---- 14

بیوہ = 875000

فی بیٹی = 360294

فی بیٹا = 720588

برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد از ادائے قرض و وصیتِ جائزہ یٰسین كا کل ترکہ 136حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 225202610146

فتویٰ آن لائن


مرحوم کی وراثت کی تقسیم — بیوہ، بیٹے اور بیٹیوں کے شرعی حصص #وراثت #تقسیم_ترکہ #بیوہ_کا_حصہ #بیٹے_کا_حصہ #بیٹی_کا_حصہ #فرائض #فقہ_حنفی #ترکہ_کا_حساب #اسلامی_وراثت #دارالافتاء