info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





زندگی میں فوت شدہ بیٹے کی اولاد کا دادا کی وراثت میں حق پوتوں کو زکوٰۃ دینے کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 1۔ میرا ایک بیٹا فوت ہوچکا ہے، جو صاحب اولادہے، اب میرے مرنے کے بعد میری وراثت میں اس کی اولاد شرعاً حقدار ہوگی؟ جبکہ میری دیگر بیٹے بیٹیاں موجود ہیں۔


جواب:

1۔ والد کی زندگی میں اگر کوئی اولاد فوت ہوجائے جبکہ اس کے دیگر بہن بھائی موجود ہوں تو ایسی صورت میں زندگی میں وفات پانے والے کی اولاد ،دادا کے ترکہ میں وراثت کی شرعاً حقدار نہ ہوگی۔

لما في المبسوط للسرخسي:

لأن بقاء الوارث بعد موت المورث شرط لوراثته عنه فإن الوراثة خلافة، والحي يخلف الميت، فأما الميت فلا يخلف الميت (کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)

ولما في رد المحتار:

(قوله إنما يكون بعد الموت) لأن كونهم ورثة لا يتحقق إلا بعد موت المورث

(الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 223202610139

فتویٰ آن لائن


زندگی میں فوت شدہ بیٹے کی اولاد کا دادا کی وراثت میں حق اور پوتوں کو زکوٰۃ دینے کا حکم #وراثت #ترکہ #فرائض #پوتوں_کا_حق #زندگی_میں_وفات #زکوٰۃ_کے_مصارف #اقارب_کو_زکوٰۃ #فقہ_حنفی #دارالافتاء #شرعی_رہنمائی