info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





وراثت میں — بیٹے اور بیٹیوں کے شرعی حصص


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد (امیر محمد خان) کا انتقال ۲۰۱۷ میں ہوا، پھر والدہ (آمنہ بی بی) کا انتقال ۲۰۲۲ میں ہوا۔ دونوں کے ورثاء میں ۲ بیٹے اور ۴ بیٹیاں ہیں۔ دونوں کے والدین ان کی زندگی میں ہی وفات پاگئے تھے۔ والد کے ترکہ میں ایک پلاٹ اور مشترکہ مکان(جو والد ہ کے ساتھ مشترکہ ہے) میں حصہ ہے۔ والدہ کے ترکہ میں مشترکہ مکان میں حصہ اور ایک پلاٹ ہے۔ دونوں کی وراثت کے شرعی حصص کے حساب سے تقسیم کردیں۔


جواب:

مسئلہ8 امیر محمد خان، آمنہ بی بی

میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بیٹا---- بیٹا---- بیٹی---- بیٹی---- بیٹی---- بیٹی

2---- 2---- 1---- 1---- 1---- 1

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ امیر محمد خان اور آمنہ بی بی کا کل ترکہ 8حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔


فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 225202610151

فتویٰ آن لائن


وراثت میں — بیٹے اور بیٹیوں کے شرعی حصص #وراثت #تقسیم_ترکہ #بیٹے_کا_حصہ #بیٹی_کا_حصہ #شرعی_حصص #فقہ_حنفی #فرائض # مشترکہ_جائیداد #اسلامی_وراثت #دارالافتاء