info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





موبائل پیغام سے طلاق: فقہی موقف


سوال: مجھے(مدثرہ مظہر) میرے شوہر (ماجد حسین عابد) نے واٹس ایپ پر میسج کیا کہ: "ماجد تجھے لینے آئے، ماجد، کبھی خواب میں بھی مت سوچنا۔ اب تم میرے لئے حرام ہو"(رومن اردو میں لکھا) آیا اس سے طلاق تو واقع نہیں ہوئی؟جبکہ شوہر کہتے ہیں کہ میں غصہ میں تھا، میری طلاق دینے کی نیت نہ تھی۔ نیز اس واقعہ سے قبل دو متعدد موقعوں پر شوہر مجھے لفظ طلاق سے طلاق دے چکے ہیں(ایک اپنے گھر میرے سامنے ، دوسری میرے بھائی کو کال پر)۔جبکہ شوہر ان کا سرے سے انکار کرتا ہے۔ ہم اکھٹے رہنا چاہتے ہیں۔ نوٹ: شوہر کے خط کشیدہ الفاظ سائلہ کے موبائل پر بھیجے گئے پیغام کو دیکھ کر لکھے گئے ہیں۔


جواب:

واضح رہے کہ ماجدحسین عابد (شوہر)کے خط کشیدہ الفاظ ادا کرنے کی وجہ سے طلاق دینے کی نیت نہ ہوتب بھی سائلہ (مدثرہ مظہر) پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے۔

لما في رد المحتار:

أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية

(الدر مع الرد، كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، 3/ 252 ط:دارالفكر)

غصے میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، چنانچہ عمدۃ القاری میں ہے:

أما حكم الطلاق في الغضب فإنه يقع

(كتاب التفسير، باب الطلاق في الإغلاق والكره ۔۔۔ الخ، 20/ 251 ط: دار إحياء التراث العربي)

چونکہ سائلہ اس سے قبل ایک طلاق خود اپنے کانوں سے سن چکی ہے اور ایک طلاق عادل آدمی(بھائی) کی خبر سے معلوم کرچکی ہے، اس لئے  اب اس کیلئے اپنے شوہر (ماجد حسین عابد) کے ساتھ آباد ہونا شرعاً جائز نہیں ہے۔

لما في الفتاوى الهندية:

والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك

(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصريح، 1/ 354 ط: دارالفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 225202610153

فتویٰ آن لائن


موبائل پیغام سے طلاق: فقہی موقف #غصہ_میں_طلاق #فتاوی #امداد_الفتاوی #طلاق #واٹس_ایپ #شرعی_احکام #بیوی #شوہر #فقہ_حنفی #بائن_طلاق