info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





وارثین میں تقسیم اور زیورات کی وصیت کا شرعی حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری والدہ (زبیدہ بی بی) کا انتقال ہوچکا ہے، ورثاء میں شوہر(محمد اقبال)، ایک حقیقی بیٹی(طیبہ) ،دو حقیقی بیٹے(خالد،طارق) ، دو سوتیلی بہنیں(طاہرہ،سعیدہ) ہیں، جو محمد اقبال کی دوسری بیوی (خدیجہ ) کے بطن سے ہیں۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔ 2۔ مرحومہ نے کچھ طلائی زیورات کے متعلق زبانی کہا تھا کہ:"اگر مجھے کچھ ہوجائےتو یہ زیورات انہی(طوبی دخترطیبہ،عمارہ دختر طاہرہ) کے ہیں، ان کو دے دینا"۔ ان زیورات کے بارے میں کیا حکم ہے؟


جواب:

مسئلہ4/20 مضروب5 زبیدہ بی بی (متوفیہ)

میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

شوہر- حقیقی بیٹا- حقیقی بیٹا- حقیقی بیٹی - سوتیلی بیٹی - سوتیلی بیٹی

محمداقبال خالد طارق طیبہ سعیدہ طاہرہ

1 -3- محروم - محروم

5 - 6 - 6 - 3

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد از ادائے قرض و وصیتِ جائزہ زبیدہ(مرحومہ) کا کل ترکہ 20حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔

2۔ مرحومہ کی وصیت چونکہ غیر ورثاء کیلئے ہے، اس لئے شرعاً معتبر ہے، لہٰذا اگر یہ زیورات کل ترکہ کے تہائی سے کم مالیت کے ہیں تو انہی کو ملیں گے، لیکن اگر زیورات کی مالیت کل ترکہ کے تہائی سے زیادہ ہے تو تہائی مالیت تک انہی بچیوں کو ملے گا، بقیہ ورثاء کا حق ہے۔ البتہ اگر ورثاء اپنی رضامندی سے انہی بچیوں کو تمام زیور دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔

لما في الدر المختار:

(وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه۔۔۔

(الدر مع الرد، كتاب الوصايا، 6/ 650 ط:دارالفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 225202610154

فتویٰ آن لائن


وارثین میں تقسیم اور زیورات کی وصیت کا شرعی حکم #وصیت #شریعت #فقہ_اسلامی #وراثت #شوہر #بیٹے #بیٹی #سوتیلی_بہن #زیورات #ترکہ #اسلامی_قانون