والد اپنی مملوکہ زمین بیٹے کی اجازت کے بغیر فروخت کرسکتا ہے۔
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنے والد کی زمین پر ظاہراً قبضہ کر رکھا ہے، جبکہ کاغذات میں قبضہ والد کے پاس ہے۔ اور والد زمین بیچ کر کسی دوسرے کاروبار میں پیسے صرف کرنا چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ والد افریقہ کے ملک میں رہتا ہے اور بیٹا پاکستان میں رہتا ہے۔ والد صحت مند ہے اور تقریباً ۶۵ برس کا ہے۔آیا والد کو شریعت اجازت دیتی ہے کہ وہ بیٹے کی اجازت کے بغیر اپنی زمین بیچ دے؟
جواب:
برتقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں والد کیلئے شرعاً جائز ہے کہ وہ اپنی زمین بیچ کر دوسرے کاروبار میں پیسے لگا سکتا ہے۔ کیونکہ زندگی اور صحت کی حالت میں ہر شخص اپنی جائیداد کا خود مالک ہے کسی بیٹے /بیٹی یا دیگر کسی وارث کا اس کی جائیداد کے ساتھ کوئی حق متعلق نہیں ، نہ کوئی مطالبہ کرسکتاہے ، اور نہ ہی والد کو اپنی جائیداد میں تصرف کیلئے کسی بیٹے کی اجازت کی ضرورت ہے۔
مجلة الأحكام العدلية (ص: 230)
كل يتصرف في ملكه كيفما شاء
(الكتاب العاشر: في الشركات، الباب الثالث: في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان والجيران، الفصل الأول: في بيان بعض قواعد أحكام الأملاك، المادة:1192 ط:نور محمد)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 225202610147
فتویٰ آن لائن