مرحوم کی وراثت — بیوہ، بیٹیاں اور بیٹوں کے شرعی حصص
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد (سید مشتاق علی) کا انتقال ہوچکا ہے۔ ورثاء میں ایک بیوہ، 5 بیٹیاں اور 3 بیٹے تھے، جن میں سے ایک بیٹا مرحوم کی زندگی میں ہی انتقال کرگیا تھا، اس بیٹے کے ورثاء میں ایک بیٹا اور بیوی ہیں۔ اب 2 بیٹے حیات ہیں۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتادیں۔جزاکم اللہ خیراً
جواب:
الجواب حامدًا ومصليًا
مسئلہ8/72 مضروب 9 سید مشتاق علی(متوفی)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ--- بیٹی--- بیٹی--- بیٹی--- بیٹی ---بیٹی--- بیٹا--- بیٹا---پہلے سے فوت شدہ بیٹا
1--------- 7 --------- محروم
9--- 7--- 7 ---7 ---7--- 7--- 14--- 14---محروم
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ حاجی محمد یوسف(مرحوم) کا کل ترکہ 72حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 225202610148
فتویٰ آن لائن